مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں نابلس شہر کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں تل میں شہید فاروق رمضان کے گھر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، اس کارروائی سے چند گھنٹے قبل گاؤں پر دھاوا بول کر ہدف بنائے گئے عمارت کے گردونواح کے دجنوں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔
درجنوں فوجی گاڑیوں کی مدد سے قابض فوج نے گھر کے اردگرد کے علاقے کا محاصرہ کر لیا، جو کہ تین منزلوں پر مشتمل ہے، اس سے پہلے کہ انجینئرنگ ٹیموں کو اس کے اندر دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کے لیے آگے بڑھایا گیا، اور پھر دھماکے کا عمل مکمل کیا گیا۔
قابض فوج نے قریبی گھروں کے مکینوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا، اور انہیں مطلع کیا کہ اس وقت تک واپس نہ آئیں جب تک آپریشن مکمل نہیں ہو جاتا اور فوج علاقے سے پسپا نہیں ہو جاتی۔
دھاوا کے دوران قابض فوج نے کئی قریبی گھروں کو عقبی فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا، جبکہ متعدد فلسطینیوں پر حملوں کے واقعات بھی درج کیے گئے۔
قابض فوج نے شہید فاروق رمضان کے گھر کو مسمار کرنے کا فیصلہ اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کے تحت کیا، جس میں اسرائیل نے فاروق رمضان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ گزشتہ جولائی میں ہونے والی فائرنگ کی کارروائی میں ملوث تھے، جس کے نتیجے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایک افسر بھی شامل تھا، اور دو دیگر زخمی ہو گئے تھے، جو کہ گاؤں میں آباد کاروں کے دھاوے کے بعد پھوٹ پڑنے والی جھڑپوں کے دوران پیش آیا تھا۔
واضح رہے کہ رمضان گزشتہ ماہ کی 24 تاریخ کو تل گاؤں کے اطراف میں قابض اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں آباد کاروں کے ایک حملے کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
