Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ایہاب دیاب کی شہادت سے قابض اسرائیلی جیلوں میں شہید اسیران کی تعداد 91 تک پہنچ گئی

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک تحریکِ اسیران کے شہداء کی تعداد 91 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ زیر حراست صحافی ايهاب محمد عبد القادر دیاب کی قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر شہادت کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے، جنہیں تقریباً 9 ماہ قبل گرفتار کر کے ان کا انجام جبری گمشدگی کی تاریکی میں چھپا دیا گیا تھا۔

کلب برائے اسیران نے پیر کے روز بتایا کہ دیاب 18 ستمبر سنہ 2024ء کو شہید ہو گئے تھے، جبکہ کمیشن برائے امور اسیران نے اتوار کے روز قابض صہیونی عقوبت خانوں کی انتظامیہ کی طرف سے ان کی وفات کی تصدیق کرنے والا باضابطہ جواب ملنے کے بعد ان کی شہادت کا اعلان کیا۔

قابض فوج نے دیاب کو 12 دسمبر سنہ 2023ء کو ان کے گھر سے ان کے اہل خانہ کے سامنے گرفتار کیا تھا، اور اس کے بعد سے ان کے اہل خانہ کو ان کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی، جبکہ قابض نے ان کی شہادت کی تصدیق کرنے سے پہلے ان کی گرفتاری کا ہی انکار کر رکھا تھا۔

کمیشن برائے امور اسیران نے واضح کیا کہ عقوبت خانوں کی انتظامیہ نے یہ دعویٰ کیا کہ دیاب صحت کے مسائل کا شکار تھے، جبکہ ان کے اہل خانہ نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ گرفتاری کے وقت وہ مکمل صحت مند تھے اور انہیں کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔

کمیشن نے یہ امکان ظاہر کیا کہ دیاب 18 ستمبر سنہ 2024ء کو شہید ہو گئے ہوں گے، جس کے بعد سنہ 1967ء سے لے کر اب تک تحریکِ اسیران کے شہداء کی تعداد بڑھ کر 328 ہو گئی ہے، جن میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ کی پٹی کے 53 اسیر بھی شامل ہیں۔

دیاب سنہ 1990ء میں پیدا ہوئے، وہ شادی شدہ اور دو بچوں کے والد تھے، انہوں نے غزہ کی جامعہ الازہر سے صحافت اور میڈیا میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی اور صحافی کے طور پر کام کرتے تھے۔

دیاب کے دو بھائی شہید ہو گئے تھے جن میں سے پہلے بھائی نے 11 نومبر سنہ 2004ء کو جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ دوسرے بھائی نے 27 دسمبر سنہ 2008ء کو شہادت پائی۔

کلب برائے اسیران نے بتایا کہ نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 250 سے زائد صحافی گرفتاری اور حراست کا نشانہ بن چکے ہیں، اور شہید صحافی مروان حرز الله کے بعد اس مدت کے دوران قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر شہید ہونے والے دیاب دوسرے صحافی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل نے صحافیوں کو مسلسل نشانہ بنانے اور سچائی کی آواز کو دبانے کی کوششوں کے دائرہ کار میں غزہ کی پٹی میں 260 سے زائد صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

کلب نے اس بات پر زور دیا کہ دیاب کی شہادت فلسطینی صحافیوں کے خلاف کیے جانے والے ان جرائم کے ریکارڈ میں ایک اور اضافہ ہے جن میں قتل، گرفتاری اور جبری گمشدگی شامل ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan