غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی شہری دفاع کے عملے نے غزہ شہر کے جنوب میں واقع علاقے تل الہوا میں شارع الصناعہ پر “کرم” خاندان کے ایک گھر کے ملبے کے نیچے سے آٹھ شہداء کے جسدِ خاکی اور باقیات نکال لیں، جو کہ ملبے اور کنکریٹ کے بلاکوں کے درمیان مسلسل تلاش کے آپریشنز کے بعد ممکن ہوا۔
شہری دفاع کے عملے نے ایک مختصر بیان میں واضح کیا کہ کچھ لاشیں گلنے سڑنے کے آخری مراحل میں تھیں، جب کہ کچھ دوسروں کی صرف باقیات ہی باقی بچی تھیں، جو کہ ملبے کے نیچے طویل عرصے تک پڑے رہنے کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ریسکیو ٹیمیں اسی مقام پر تلاش کے آپریشنز کو دوبارہ شروع کریں گی، تاکہ آٹھ دیگر شہداء کے اجساد کو باہر نکالنے کی کوشش کی جا سکے جو ہنوز لاپتا افراد کی فہرست میں شامل ہیں، جن کے بارے میں یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ وہ اب بھی تباہ شدہ گھر کے ملبے کے نیچے موجود ہیں۔
شہری دفاع اور ایمبولینس کا عملہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں نشانہ بنائے گئے مقامات سے شہداء کو نکالنے کے آپریشنز مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ عملےکو وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی، بھاری آلات کی قلت اور ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچنے کے لیے ضروری وسائل کی کمی کی وجہ سے بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔
اندازے یہ بتاتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً پندرہ ہزار شہداء اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے نیچے موجود ہیں، جب کہ شہری دفاع کی ٹیموں اور طبی عملے کا وہاں تک پہنچنا ناممکن بنا ہوا ہے۔
غزہ شہر کے باسیوں نے “ابو شریعہ” اور “الحسائنہ” خاندانوں کے 112 شہداء کے جنازے اٹھائے، جو کہ ایک پورے رہائشی بلاک کے ملبے کے نیچے ہفتوں تک جاری رہنے والی تھکا دینے والی تلاش کے آپریشنز کے بعد ممکن ہوئے، جسے قابض اسرائیل نے سنہ 2023ء کے نومبر کو شدید ترین فضائی بمباری کے ذریعے تباہ کر دیا تھا۔
اس ہولناک قتل عام کے نتیجے میں 308 شہری شہید ہو گئے تھے، جن میں سولہ سال سے کم عمر کے 44بچے، 37 خواتین اور معذور افراد میں سے دس سے زیادہ لوگ شامل تھے، ایسے وقت میں جب قابض اسرائیل نے ریسکیو ٹیموں کو اس مقام تک پہنچنے سے روک رکھا تھا۔
