Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس: غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے سے متعلق تمام طے شدہ نکات برقرار ہیں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ایک ذمہ دار ذ ذرائع نے بتایا ہےکہ ان کی تحریک اور دیگر فلسطینی دھڑے جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ سے متعلق طے پانے والے تمام امور پر سختی سے قائم ہیں جن میں تمام فریقین کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

ذذرائع نے ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ حماس نکولے ملادی نوف اور ثالث ممالک کی جانب سے طے پانے والے امور کے بارے میں کسی واضح اور سرکاری جواب کی منتظر ہے۔

حماس کے ذمہ دار ذرائع کا یہ بیان پیس کونسل کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے حوالے سے فلسطینی دھڑوں اور ثالثوں کے درمیان طے پانے والی تفصیلات سے ہٹ کر باتیں کی گئی تھیں۔

غزہ میں پیس کونسل نے قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ “یلو لائن” کے پار کوئی بھی اسرائیلی انخلاء پٹی کے اندر اسلحے کے مکمل خاتمے کے عمل کی تکمیل کے بعد ہی عمل میں آئے گا جبکہ جنگ بندی کے معاہدے کے ثالث ممالک نے غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غزہ کی پٹی کو ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کرنا اگلے مرحلے کے انتظامات کی ایک بنیادی شرط ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس عمل کا حتمی ہدف واضح اور غیر متنازع ہے جو کہ تمام مسلح مظاهر کے خاتمے اور مسلح حکمرانی کی حقیقت سے نکل کر سویلین نظامِ حکومت کی طرف منتقلی پر مشتمل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ غیر مسلح کرنے کے منصوبے میں سرنگوں کے علاوہ ہلکے اور بھاری دونوں قسم کے ہتھیار شامل ہیں جو کہ پٹی میں فوجی ڈھانچے کے خاتمے کو ہدف بنانے والے ایک جامع عمل کے فریم ورک کے تحت ہے۔

کونسل نے اشارہ کیا کہ ہتھیاروں کے خاتمے کے اس عمل کی نگرانی بین الاقوامی استحکام فورس کی سرپرستی میں کی جائے گی اور نفاذ کے شقوں کی پابندی کو یقینی بنانے اور متفقہ لائحہ عمل کے مطابق اس کی تکمیل کی ضمانت دینے کے لیے ایک مخصوص کمیٹی اس کا جائزہ لے گی۔

ملاقات کے بعد غزہ میں پیس کونسل کے سربراہ نکولے ملادی نوف نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ “القدس میں ایک طویل دن گزرا جس کے دوران میں نے وزیراعظم نیتن یاھو اور ان کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی۔ یہ مشکل مرحلے کا آغاز ہے اور میں نے کبھی اس کے برعکس دعویٰ نہیں کیا۔ ہم اب جو کچھ کر رہے ہیں اس کا بیشتر حصہ سنسنی خیزی سے خالی ہے، یہ ایک سست، کٹھن اور انتہائی دقیق اور پیچیدہ کام ہے”۔

پیس کونسل کے حالیہ بیانات کے جواب میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا کہ تحریک اور دھڑے دوسرے مرحلے سے متعلق طے پانے والے امور پر ثابت قدم ہیں جس میں تمام فریقوں کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

جمعہ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں پیس کونسل نے اس امر پر زور دیا تھا کہ اسرائیل شرم الشیخ پروٹوکول کے تحت اپنی باقی تمام ذمہ داریوں کو فوری اور مکمل طور پر پورا کرنے کا پابند ہے جن میں سرفہرست فوجی کارروائیوں کا تاخیر کے بغیر بند کیا جانا ہے۔ اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی پچھلے مرحلے کے نفاذ اور اس کی ذمہ داریوں کی تکمیل کے میدانی جائزے سے مشروط رہے گی۔

معاہدے کے مسودے، جس کی ایک نقل الجزيرة کو موصول ہوئی ہے، میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ امن منصوبے کے نفاذ کے ایک جامع فریم ورک کے اندر مزاحمتی ہتھیاروں کی گنتی اور انہیں ذخیرہ کرنے کے عمل کو بتدریج اور تسلسل کے ساتھ انجام دیا جائے گا تاکہ اسلحے کے معاملے کو غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلاء کے ساتھ ایک متوازی ٹائم ٹیبل کے ذریعے جوڑا جا سکے بغیر اس کے کہ کوئی بھی فریق یکطرفہ اقدامات اٹھائے۔

اس مسودے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ غزہ کی انتظامیہ کے لیے قائم ہونے والی قومی کمیٹی ہی وہ واحد مجاز ادارہ ہو گی جو پٹی کے اندر ہتھیاروں کی گنتی، ان کے ذخیرہ کرنے اور ان پر کنٹرول کے عمل کی نگرانی کرے گی جسے اسرائیل نے اب تک تسلیم نہیں کیا کیونکہ وہ اس کمیٹی کو پٹی میں داخل ہونے اور اپنے فرائض انجام دینے سے روک رہا ہے۔

حماس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ ہتھیاروں کی گنتی کے اقدامات میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کا مقابلہ پٹی سے اسرائیلی انخلاء کے اقدامات میں ہونے والی مماثل پیش رفت سے کیا جائے گا۔

قابض اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ایک ذرائع نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فوج پٹی کے اندر “یلو لائن” سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور جنگ بندی کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے باوجود اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گی جو قاہرہ کے روڈ میپ کی صریح مستردی کا اعلان ہے۔

علاوہ ازیں اسرائیلی چینل 13 نے بعض اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا کہ حماس کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کے انکشاف کے بعد نیتن یاھو کا دفتر صدمے سے دوچار ہو گیا ہے۔

یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پیس کونسل کی طرف سے جمعہ کے روز غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے اگلے مرحلے کے نفاذ سے متعلق تفہیم پر پہنچنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

اسی ضمن میں قابض اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکہ کو اس منصوبے سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تائید حاصل تھی، اور اس امر پر زور دیا کہ شائع شدہ مسودہ اسرائیل کے سرکاری موقف کی عکاسی نہیں کرتا۔

دفتر کے ترجمان دورون سپیل مین نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ غزہ میں کسی بھی پائیدار سمجھوتنے سے پہلے حماس کے ہتھیاروں کا ایسا مکمل خاتمہ ہونا لازمی ہے جو قابلِ تصدیق ہو اور ناقابلِ واپسی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے اندازے اس بات کی نشانہ دہی کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے آغاز سے ہی تحریک نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کر لیا ہے اور نئے جنگجو بھرتی کیے ہیں، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا انتظام جو اسے مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا باعث نہ بنے، اسرائیل کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی اس کی صلاحیت کو برقرار رکھے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan