Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

نسل کشی کے شہداء کو خراجِ عقیدت، غزہ میں 112 شہداء کی اجتماعی نمازِ جنازہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ شہر میں بروز منگل دو خاندانوں کے 112 شہداء کے جسدِ خاکی کو ایک غیر معمولی اجتماعی جنازے میں سپردِ خاک کر دیا گیا، جن کی باقیات کو شہر کے جنوب میں واقع محلہ الصبرہ میں نسل کشی کی جنگ کے دوران قابض اسرائیلی فوج کے بمباری سے تباہ ہونے والے ان کے گھروں کے ملبے تلے سے نکالا گیا تھا۔

اپنے حجم اور متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے یہ جنازہ اس ایک بڑے قتل عام کی زندہ دستاویز تھا جس نے نسل کشی کے دوران فلسطینی خاندانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

شہر کا ایک کھلا میدان درجنوں شہداء کے جسدِ خاکی سے بھر گیا جنہیں سفید کفنوں اور فلسطینی پرچم میں لپیٹ رکھا تھا اور ایک بوجھل منظر میں قطار اندر قطار رکھے گئے تھے جبکہ عوام ان پیاروں کو الوداع کہنے کے لیے امڈ آئے جنہیں مہینوں تک تدفن کے حق سے محروم رکھا گیا تھا۔

کمپلیکس کے درمیان رونے کی آوازیں، تکبیروں اور دعاؤں کے نعرے گونج اٹھے جبکہ خاندان اپنے ان بیٹوں اور رشتہ داروں کے تابوتوں کے سامنے کھڑے تھے جو سنہ 2023ء کے آخر سے ملبے تلے دبے ہوئے تھے۔

یہ اجتماعی جنازہ شہری دفاع اور ریسکیو ٹیموں کی طرف سے پیچیدہ میدانی حالات اور آلات کی شدید قلت کے باوجود کئی دنوں تک جاری رہنے والی تلاش کے بعد شہداء کے جسدِ خاکی نکالنے میں کامیاب ہونے کے بعد عمل میں آئی۔

شہری دفاع نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ الصبرہ کے علاقے میں ایک رہائشی مربعے میں تلاش کا کام 136 گھنٹے کے مسلسل کام کے بعد ختم ہو گیا ہے جس کے دوران ٹیمیں شہداء کی باقیات نکالنے میں کامیاب رہیں۔

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ متاثرین میں 40 بچے، 38 خواتین اور 7 معذور افراد شامل ہیں، جو متاثرین کی سویلین نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ ایک وسیع پیمانے پر کیا جانے والا قتل عام تھا جس نے گھروں کے اندر پورے کے پورے خاندانوں کو نشانہ بنایا۔

اس قتل عام کی تفصیلات تیئیس نومبر سنہ 2023ء کی ہیں جب قابض اسرائیلی فوج نے پہلی انسانی جنگ بندی کے آغاز سے چند گھنٹے قبل الصبرہ کے علاقے میں الحساينہ اور ابو شريعہ خاندانوں کے گھروں پر مشتمل ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر بمباری کی تھی، جس کے نتیجے میں درجنوں سویلین شہری شہید ہو گئے تھے اور انہیں ملبے تلے دفن کر دیا گیا تھا۔

مسلسل علاقے کے خطرناک ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کے نہ پہنچ سکنے کے باعث لاشیں مہینوں تک ملبے تلے پڑی رہیں۔ حال ہی میں رسائی ممکن ہونے کے بعد لاشیں نکالنے کا یہ عمل متاثرین کو باہر نکالنے اور انہیں سپرد خاک کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan