Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

غزہ بحران پر حماس اور ترکیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ

استنبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ نے جماعت کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن سے ملاقات کی اور مسئلہ فلسطین سے متعلق تازہ ترین سیاسی اور میدانی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

حماس کے اس وفد میں شوریٰ کونسل کے سربراہ محمد درویش، بیرونِ ملک تحریک کے سربراہ خالد مشعل، مغربی کنارے میں تحریک کے سربراہ زاهر جبارين اور عرب و اسلامی تعلقات کے دفتر کے ذمہ دار باسم نعیم شامل تھے۔

خلیل الحیہ نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کو درپیش انتہائی کٹھن انسانی حالات اور قابض فوج کی جانب سے جاری سنگین خلاف ورزیوں اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے قتل عام کا احوال بیان کیا اور ان تمام زیادتیوں کو فوری طور پر بند کرنے کی شدید ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مذاکرات کا آخری دور انتہائی فیصلہ کن اور اہم تھا، جس کے لیے اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ قابض دشمن کو جنگ بندی کے معاہدے کے دائرہ کار میں اس کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنانے کے لیے حقیقی کوششیں کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مذاکراتی عمل میں ثالثی کے تناظر میں ترکیہ کے کردار اور مسئلہ فلسطین نیز فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے ترکیہ کے غیر متزلزل مؤقف کو بے حد سراہا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ثالثوں کے ساتھ مل کر اس کردار کو جاری رکھا جائے تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے اور فلسطینی عوام کے اہداف، امنگوں اور ایک آزادانہ و باوقار زندگی کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

خلیل الحیہ نے ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف کو مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں قابض فوج کی مجرمانہ کارروائیوں اور قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیران کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شراکت داری اور جمہوریت کی بنیاد پر فلسطینی گھرانے کو منظم کیا جائے، ایک جامع قومی حکمت عملی مرتب کی جائے اور تمام فلسطینیوں کی حقیقی نمائندگی کے لیے قومی قیادت کے ادارے کو از سر نو تعمیر کیا جائے۔

دوسری جانب ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ترکیہ کے ثابت قدم مؤقف کا اعادہ کیا، مذاکرات کے دوران طے پانے والے امور اور فلسطینی عوام کے مفاد کے لیے تحریک اور دیگر دھڑوں کے منصفانہ مؤقف کی پرزور تحسین کی، اور اس بات پر زور دیا کہ اب عملی اقدامات کی طرف بڑھنا چاہیے اور جن امور پر اتفاق ہو چکا ہے انہیں فی الفور نافذ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ ’’فلسطینی عوام کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ ایک باوقار اور پرامن زندگی گزاریں‘‘، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک اپنا کردار اور ذمہ داری بخوبی نبھاتا رہے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan