دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ اس کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ کو قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم آل ثانی کی جانب سے فون کرکے انہیں اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا ۔
حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خلیل الحیہ نے بات چیت کے دوران ہمارے فلسطینی عوام اور ان کے عادلانہ کاز کی خدمت کرنے، اصولوں کو برقرار رکھنے اور ان کا دفاع کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی تصدیق کی اور قطاع غزہ، مغربی کنارے اور تمام محاذوں پر ہمارے فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دوسری طرف قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کی تکمیل سے متعلق روڈ میپ کو اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی طرف سے قبول کیے جانے کا خیرمقدم کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اقدام قطاع میں فلسطینی عوام کے مصائب کا خاتمہ کرنے اور سکیورٹی اور استحکام میں ان کی امنگوں کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
آل تھانی نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے “قابض اسرائیل” پر دباؤ ڈالے تاکہ قطاع غزہ میں سکیورٹی اور استحکام کے حصول تک روڈ میپ کے نفاذ کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس سے قبل اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا تھا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے قتل و غارت گری روکنے اور اس کے حملوں کو ختم کرنے کا عزم ہی جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ میں آگے بڑھنے کا بنیادی دروازہ اور پہلا قدم ہے، اور متفقہ امور کے فریم ورک اور ٹائم ٹیبل کو ترتیب دینے کا آغاز ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اطلاق قابض اسرائیل کی طرف سے پہلے مرحلے کے تمام شقوں پر عمل درآمد کرنے سے مشروط ہے۔
جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا کہ اس نے اور فلسطینی دھڑوں نے جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کو مکمل کرنے کے لیے مذاکراتی عمل اور ثالثوں کی تجاویز کے ساتھ ذمہ داری اور مثبت انداز میں برتاؤ کیا ہے، اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان قومی اتفاق رائے کے ساتھ، جس میں شراکت داری اور ذمہ داری کی روح واضح تھی، ہمارے عوام کے تحفظ، ان کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور ان کے قومی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری فکری وابستگی سے پیدا ہوا۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کے فریم ورک میں بھاری ہتھیاروں کے فائل کو شامل کرنے کی منظوری کو تمام اقسام کی جارحیت کے خاتمے، غزہ سے انخلا، ابتدائی بحالی کے حصول، انتظامی کمیٹی کے داخلے، بین الاقوامی تحفظ فورس کی تعیناتی، قابض اسرائیل کی طرف سے تشکیل کردہ مسلح گینگ اور ملیشیا کے خاتمے، تعمیر نو کی ضمانت، حق خود ارضیات کی ضمانت، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا گیا ہے۔
