رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے روزنامہ “یسرائیل ہیوم” کے مطابق قابض اسرائیل کے عسکری اڈے “سدی تیمان” میں ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں “گیواتی” بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100 فوجیوں نے، جن میں “تصابار” بٹالین کے جنگجو اور کمانڈرز بھی شامل ہیں بٹالین کے کمانڈر کے ساتھ تلخ تنازع کے بعد فوجی اڈا چھوڑ دیا اور اپنا اسلحہ وہیں چھوڑ گئے۔
“معاریو” نے ایک اسرائیلی فوجی ماخذ کے حوالے سے بتایا کہ فوجیوں کے اس طرح اڈا چھوڑ کر چلے جانے کے نتیجے میں یہ بٹالین عملی طور پر جنگی تیاری سے باہر ہو گئی ہے، حالانکہ وہ آنے والے دنوں میں غزہ میں فوجی کارروائیوں کا حصہ بننے کی تیاری کر رہی تھی۔
قابض اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ ایک جنگی بٹالین کے کچھ سپاہی اپنے کمانڈروں کی اجازت کے بغیر عسکری اڈا چھوڑ کر چلے گئے اور بتایا کہ اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کی جا رہی ہے۔
فوج نے اس اقدام کو “اسرائیلی فوج کی اقدار اور عسکری خدمت کے معیار کے منافی” قرار دیا۔
“معاریو سے گفتگو کرنے والے فوجی ذریعےنے اس بغاوت کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے جو “تصابار” بٹالین کے اندر پرانے فوجیوں کی طرف سے کچھ روایات اور رویے مسلط کرنے کی کوششوں پر پیدا ہوئے، جو درجنوں فوجیوں اور کمانڈروں کے اڈا چھوڑ کر جانے پر منتج ہوئے۔
ذریعے نے اس واقعے کو اسرائیلی فوج کے اندر ایک استثنائی اور انوکھا واقعہ قرار دیا، اور اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے نتائج فوری ظاہر ہوئے، کیونکہ بٹالین ان جنگی مشنوں میں حصہ لینے کے لیے نااہل ہو چکی ہے جن کی وہ قطاع غزہ میں تیاری کر رہی تھی۔
واضح رہے کہ “سدی تیمان” وہ حراستی مرکز ہے جسے قابض اسرائیلی فوج 7 اکتوبر 2023 کو قطاع غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے استعمال کر رہی ہے۔
اس تنصیب کو بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جہاں اسرائیلی حکام پر فلسطینیوں کو انتہائی سخت حالات میں قید کرنے اور ان کے خلاف سنگین پامالیاں کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
متعدد رپورٹس اور گواہیوں میں اس حراستی مرکز کے اندر قیدیوں پر تشدد، بدسلوکی، جسمانی اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے، یہاں تک کہ نظربندوں کی اموات کے واقعات بھی ریکارڈ پر آئے ہیں، جس کی وجہ سے آزادانہ تحقیقات کرانے اور ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے مطالبات زور پکڑتے رہے ہیں۔
