Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

سروے میں انکشاف، امریکی عوام کی بڑی تعداد نیتن یاہو کے خلاف کارروائی چاہتی ہے

واشنگٹن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) “دی اکانومسٹ” میگزین کے ذریعہ “یوگوف” ادارے کے تعاون سے کیے گئے ایک رائے عامہ کے سروے سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ تقریباً نصف امریکی باشندے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے جنگی مجرم قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتنياهو کے امریکہ میں داخل ہونے کی صورت میں اس کی گرفتاری کی تائید کرتے ہیں، جب کہ 47 فیصد شرکاء نے اسے “جنگی مجرم” قرار دیا، اور 43 فیصد کی رائے میں غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی کے مترادف ہے۔

یہ سروے پچیس سے ستائیس جولائی کے درمیان کیا گیا، جس میں ایک ہزار پانچ سو انسٹھ (1559) بالغ افراد نے حصہ لیا، جب کہ اس کے نتائج آج بروز بدھ شائع کیے گئے۔

نتائج سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ 49 فیصد شرکاء نے امریکہ میں داخل ہونے پر بنجمن نتنياهو کی گرفتاری کی تائید کی، جب کہ 27 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ 23 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔

سروے کے مطابق 47 فیصد رائے دہندگان بنجمن نتنياهو کو “جنگی مجرم” سمجھتے ہیں، جب کہ 24 فیصد نے کہا کہ وہ نیتن یاھو کو جنگی مجرم نہیں سمجھتے، 29 فیصد نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔

جہاں تک غزہ پر جنگ کا تعلق ہے تو 43 فیصد کی رائے تھی کہ پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی کی سطح تک پہنچتا ہے، جب کہ 24 فیصد نے کہا کہ یہ اس سطح تک نہیں پہنچتا، جبکہ 32 فیصد نے رائے دینے سے گریز کیا۔

یہ تنازع ان دو وارنٹ گرفتاریوں کے سائے میں سامنے آیا ہے جو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اکیس نومبر سنہ 2024ء کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب سے متعلق الزامات کے تحت بنجمن نتنياهو اور قابض اسرائیل کے سابق وزیر سکیورٹی یوآف گیلنٹ کے خلاف جاری کیے تھے، جن میں بھوک رکھنا اور شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

سروے کے نتائج کا شائع ہونا بنجمن نتنياهو کے دورہ واشنطن کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا، جب کہ نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی نے بعد میں پیچھے ہٹنے سے پہلے انہیں حراست میں لینے کی دعوت دی، اور یہ واضح کیا کہ ان کے پاس اس پر عمل درآمد کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں امریکہ اور اسرائیل کے شامل نہ ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی سروس کے اراکین کے تحفظ کے قانون اور سفارتی استثنیٰ سے متعلق قانونی تحفظات کی روشنی میں امریکہ کے اندر بنجمن نتنياهو کی گرفتاری کا امکان بعید از قکار رہتا ہے۔

سروے کے نتائج امریکی عوام کی طرف سے بنجمن نتنياهو کے لیے عوامی تائید کی سطح میں کمی کی عکاسی کرتے ہیں، اس قانونی اور سیاسی تحفظ کے باوجود جو امریکہ کے اندر وارنٹ گرفتاری کے نفاذ کو غیر متوقع امر بنا دیتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan