Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

امریکہ کو جنگی تباہی کا سامنا ہے

تحریر: ڈاکٹر ندیم بلوچ

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)ماریو نوفل معروف صحافی ہیں اور یوٹیوب پر پروگرام کرتے ہیں، یہ کسی ادارے کے ملازم نہیں ہیں، اس لیے کافی آزاد خیال ہیں اور کئی ایسے لوگوں کو بلاتے ہیں، جو دنیا میں آزاد تجزیہ دینے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ کل انہوں نے پروین ساہنی کا انٹرویو کیا۔ پروگرام کے آغاز میں ہی ساہنی کو مخاطب کرکے کہتے ہیں، ابھی ہمیں یوکرین، مالی، سوڈان، لیبیا اور دیگر تنازعات کی بات کرنی چاہیئے، کیونکہ ایران کی جنگ تو ختم ہوچکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں زور کا قہقہہ لگاتے ہیں۔ یہ امریکی انحطاط کی انتہاء ہے کہ دنیا کے ٹاپ سکیورٹی ماہرین اس کی حکمت عملی اور اس بنتی درگت پر اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ پروین ساہنی نے بڑی اہم باتیں کیں، جس میں کہا ایران کی یہ تجویز کہ خطے کی سکیورٹی خطے کے ممالک کے پاس ہونی چاہیئے، بہت اہم نتائج سامنے لا رہی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان عربوں کو سمجھا رہا ہے کہ خطے کے تمام ممالک کو سکیورٹی گارنٹی دینا ہوگی۔ سعودیوں کو بھی کہا ہے کہ یمن ایڈونچر بند کریں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ یمن کو امن دیئے بغیر سعودی عرب میں امن ہو جائے۔کویت اور دیگر ممالک پاکستان سے معاہدے کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی اس بات کا اہتمام ہے کہ جب امریکہ جائے گا تو سکیورٹی خلا کو کون پر کرے گا۔ پروین ساہنی کے مطابق یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی کے تحت ہی ہو رہا ہے، جس میں خطے سے امریکہ کو نکالنا ہے۔ پچھلے تین دن سے امریکہ ایران پر حملے نہیں کر رہا اور اس کی وجہ بقول ٹرمپ صاحب مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت ہے۔ ویسے تو ان کی کسی بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا، مگر یہ ہنڈیا بیچ چورائے پھوٹی ہے۔

یہ خبر ملاحظہ فرمائیے، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹس چیفس آف اسٹاف ڈین کین نے ایران جنگ میں شدت لانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن تو ہے، لیکن اس سے امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔ ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران پر حملوں کا نتیجہ توقعات کے برعکس نکلا ہے، امریکی حملے ایران کو اندر سے متحد ہونے اور ایرانی رہنماؤں کو بیرونی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع دے رہے ہیں۔

جنگ سے پہلے کسی نے سوچا تھا کہ ایران امریکہ جیسی طاقت کو اس قابل رحم حالت میں لے آئے گا کہ اس کے اسلحہ کے ذخائر میں ہی کمی واقع ہو جائے گی۔ ویسے اب بڑے بڑے تجزیہ نگار اس کے ساتھ اور بھی بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ جو کینٹ کہتا ہے کہ حالیہ عارضی جنگ بندی کی ایک وجہ بظاہر تو انٹرسیپٹرز کی کمی بتائی جا رہی ہے، مگر جو کینٹ کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے اردن اور کویت میں امریکی ٹھکانوں پہ تباہی پھیر دی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کا خیبر شکن بیلسٹک میزائل کم لاگت، زیادہ درستگی اور مہلک صلاحیت کے باعث تہران کے میزائل ذخیرے کا سب سے مؤثر ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس میزائل کی مار 1,450 کلومیٹر سے زائد ہے اور حالیہ ہفتوں میں ایران نے اسے امریکی فوجی اڈوں پر نسبتاً پیچیدہ حملوں میں استعمال کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران خیبر شکن میزائل کو مختلف پروازی راستوں، رفتاروں اور دورانِ پرواز مخصوص چالوں کے ساتھ داغ رہا ہے، تاکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو الجھا کر حملوں کی کامیابی کے امکانات بڑھائے جا سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل نسبتاً سستا، متحرک اور انتہائی درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث یہ ایران کی جنگی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور امریکی فوج کے لیے ایک بڑھتا ہوا دفاعی چیلنج بن چکا ہے۔

یہ ایسا چیلنج بنا ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈے مٹی کا ڈھیر بن رہے ہیں اور اردن کے اڈے پر جو تباہی مچی ہے، اس نے پوری دنیا میں امریکی دفاعی نظام کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجی ہوٹلوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ جو کینٹ Joe Kent نے چند ماہ پہلے امریکا کی اہم ترین انٹیلی جنس سروس کی سربراہی سے استعفیٰ دیا ہے۔ جس کا نام USNCC ہے، اس نے انکشاف کیا ہے ایران نے غیر معمولی accuracy کے ساتھ گلف میں قائم امریکی انٹیلیجنس کا دماغ یعنی انتہائی خفیہ سی آئی اے کا سینٹر تباہ کیا ہے، جس میں 50 کے قریب جاسوسی کے اعلیٰ ترین دماغ ہلاک ہوگئے۔ جو کینٹ کا کہنا ہے کہ اس نے وائٹ ہاؤس سمیت، سینٹکام اور پینٹاگون کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہوا ہے، کیونکہ اس ٹھکانے کا قریب ترین اتحادیوں کو بھی نہیں پتہ تھا۔

جو کینٹ Joe Kent کا کہنا ہے کہ پریشانی اس لئے ہے کہ یہ اندر کی کارستانی ہے۔ اسلحہ کی کمی کا سامنا ہے، اپنے اتحادیوں کی حفاظت کیا کرنی۔؟ خود اپنے فوجی ہوٹلوں میں بٹھا رکھے ہیں۔ ایرانی میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرونز نے تمام حصار توڑ کر پن پوائنٹ ٹارگٹس کو ہٹ کیا ہے۔ ایران کے زمینی جاسوسی کے نظام نے بھی بہت اہم اطلاعات دیں، جس پر تباہ کن کاروائیاں کی گئی ہیں۔ چین اور امریکہ کی جنگ چل رہی ہے۔ ایران امریکہ جنگ نے چین کو بڑے فائدے پہنچائے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی فرید زکریا کی رپورٹ نے عالمی سیاست کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ تجزیہ کار کے مطابق، بیجنگ نے گزشتہ تین دہائیوں کے سب سے بڑے بحران کو اپنی کامیابی میں بدل کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

چین نے تین بڑے فائدے اٹھائے ہیں:
​خاموش سفارتکاری: چین کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایک گولی تک چلانے کی ضرورت نہیں پڑی۔
​مالیاتی بچت: بیجنگ نے اس بحران میں بھاری رقوم خرچ کرنے کے بجائے اپنی معاشی اور سیاسی حکمت عملی کو ترجیح دی۔
​سیاسی طاقت: چین نے بغیر اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگائے، اس صورتحال سے وہ فوائد حاصل کیے ہیں، جو گزشتہ 30 برسوں میں کسی اور ملک کو نصیب نہیں ہوئے۔ ​فرید زکریا کا ماننا ہے کہ یہ بیجنگ کی دور اندیشی اور تزویراتی مہارت کا نتیجہ ہے کہ بغیر کسی نقصانات کے چین عالمی منظرنامے پر مزید طاقتور بن کر ابھرا ہے۔ فرید کے مطابق یہاں بھی چین نے امریکہ کو اچھا خاصہ ڈنٹ ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے، جس میں اس کے ریڈارز کو اڑا کر اسے اندھا کر دیا گیا ہے۔ اس کے جنگی بحری جہازوں کو سینکڑوں میل دور رکنا پڑا اور آج یہ ایران کے بارڈر سے دور ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan