Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

فلسطینی بیانیہ سے متعلق گمراہ کن پروپیگنڈے کا مقابلہ

تحریر : ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) موجودہ دور میں جنگیں صرف بارود اور ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیانیے اور خبروں کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ بیانیہ ہی کسی واقعے کے حقیقی معنوں کا تعین کرتا ہے، یہی مظلوم اور ظالم کے چہرے واضح کرتا ہے اور مقامی و عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اسی لیے، شعور و آگاہی کی یہ جنگ اب آزادی اور انصاف کی جدوجہد کا ایک نہائت اہم اور ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔ آج مسئلہ فلسطین سے متعلق صیہونزم کا پراپیگنڈا اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ فلسطین کاز کو کمزور کیا جائے۔
حالیہ دنوں دنیا بھر کے فلسطینی کاز کے کارکنوں نے کربلا میں عالمی فلسطین کانفرنس کو اس عنوان سے ترتیب دیا ہے تا کہ امریکی و صہیونی بیانیہ کا مقابلہ کیا جائے اور فلسطینی بیانیہ کو درست اُداز میں پیش کیا جائے۔ اس تناظر میں، انقلابِ حسینی اور مسئلہ فلسطین ایک ہی نقطے پر یکجا ہوتے ہیں۔ دونوں تاریخِ انسانی میں حق اور باطل کے معرکے کی بہترین مثالیں ہیں، جہاں مظلوم گروہ اس قوت کے سامنے حقیقت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو سچائی کو مسخ کرنے اور ایک جعلی بیانیہ بنانے پر تلی ہوتی ہے۔

انقلابِ حسینی: حقیقت اور سچائی کے تحفظ کا عالمگیر نام ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام اور بیداری صرف ایک ملٹری یا فوجی ٹکراؤ نہیں تھا، بلکہ یہ گمراہی اور تحریف کے خلاف سچائی کو بچانے کا ایک اخلاقی اور ابلاغی (میڈیا) منصوبہ تھا۔ امام عالی مقام اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ استبداد اور ظلم کا سب سے خطرناک ہتھیار بیانیے کی اجارہ داری ہے۔ اسی لیے آپ نے اپنے قیام کے آغاز ہی میں اپنے اہداف کو واضح کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کے قیام کا مقصد اپنے نانا کی امت کی اصلاح، امر بالمعروف (نیکی کا حکم) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکنا) ہے۔

واقعہ کربلا کے بعد امام عالی مقام کی بہن جنابِ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور امام کے فرزند امام سجاد علیہ السلام کے تاریخی کردار نے اموی بیانیے کے پردے چاک کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

انہوں نے قوم تک سچائی پہنچائی، جس کے نتیجے میں کربلا، حق کی آواز کو دبانے کی ایک کوشش سے بدل کر میڈیا کی گمراہ کن مہمات کے خلاف مقاومت اور مزاحمت کا ایک لافانی مکتب فکر بن گئی۔

سرزمین فلسطین پر صیہونی منصوبے کے آغاز ہی سے، یہ تنازعہ صرف زمین کا نہیں بلکہ تاریخ، حافظے اور شناخت پر قبضے کا رہا ہے۔ غاصبانہ تسلط کے ساتھ ساتھ ہمیشہ ایسے بیانیے تراشے گئے جن کا مقصد فلسطینی وجود کا انکار کرنا، مقاومت کا چہرہ مسخ کرنا اور مظلوم ہی کو ظالم بنا کر پیش کرنا تھا۔

دوسری جانب، محدود وسائل کے باوجود، فلسطینیوں نے شہادتوں، ادب، فن، صحافت، دستاویزات، زندہ بچ جانے والوں کے بیانات اور جدید ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اپنے بیانیے کو مضبوطی سے قائم رکھا اور دنیا تک سچائی پہنچائی۔

حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ سچائی پر مبنی بیانیہ جب وہ حقائق، تصاویر اور مستند شہادتوں سے لیس ہو، میڈیا کی سنسر شپ کو توڑنے اور عالمی رائے عامہ میں نمایاں تبدیلی لانے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے۔

پس ثابت ہوا کہ حسینی انقلاب اور فلسطینی بیانیے کے قدرِ مشترک ہے۔ اس عنوان سے ظاہری مادی طاقت کے مقابلے میں اخلاقی اور انسانی اصولوں کو مقدم رکھنا اہمیت کا حامل ہے۔
سچائی اور تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لیے شہادت کا کردار اہم ہے ۔بیانیے کے تحفظ اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں خواتین کی تاریخی ذمہ داری کو اہمیت حاصل ہے۔
اس حقیقت کا ادراک کہ جنگ صرف فوجی ٹکراؤ پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہ فکری حافظے اور شعور کے میدان میں جاری رہتی ہے،اس بات پر کامل ایمان کہ سچا بیانیہ، چاہے اس کی فتح میں وقت لگے، بالآخر زندہ رہتا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گمراہ کن پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے والا بیانیہ کیسے تشکیل دیں؟
اس حوالے سے تمام تر ناانصافیوں اور مظالم کو پیشہ ورانہ اور قانونی معیار کے مطابق ریکارڈ کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے تا کہ ایک دستاویز تیار ہو جائے۔ ڈیجیٹل میڈیا اور متعدد زبانوں میں مواد کی تیاری پر سرمایہ کاری کے ذریعہ بھی صیہونی بیانیہ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔

صیہونی بیانیہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسے محققین اور ترجمانوں کو تیار کیا جا سکتا ہے جو عالمی برادری اور بین الاقوامی رائے عامہ سے مؤثر انداز میں گفتگو کر سکیں۔
اسی طرح یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں اور میڈیا ہاؤسز کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دے کر بھی فلسطین سے متعلق درست بیانیہ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔
فلسطین کے مسئلے کے قومی اور مذہبی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اسے انصاف اور انسانی حقوق کے عالمی تناظر میں پیش کرنا بھی فلسطینی بیانیہ کے لئے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
تعلیم، ثقافت اور فنون کے ذریعے نئی نسلوں کے دل و دماغ میں تاریخی سچائی کو راسخ کرنا فلسطینی بیانیہ کی مدد ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کربلا کی زمین نے ہمیں سکھایا ہے کہ حق کو محاصرے میں تو لیا جا سکتا ہے لیکن اسے مٹایا نہیں جا سکتا، اور ایک سچا بیانیہ ہر قسم کے پروپیگنڈے کو شکست دینے کی طاقت رکھتا ہے۔

فلسطینی تجربہ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایک مستند اور منطقی بیانیہ قائم کرنا کتنا ضروری ہے۔ حسینی انقلاب کے اخلاقی و انسانی اسباق سے روشناس ہو کر، ہم فلسطینی بیانیے کو صرف ایک جذباتی نعرے کے طور پر نہیں، بلکہ حقیقت، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ پر مبنی ایک معرفتی اور انسانی منصوبے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔اور یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس کام کے لئے ہر فرد کو اپنی سطح پر ذمہ داری ادا کرنی چاہئیے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan