غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران کے لواحقین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سابق اسیران کی کثیر تعداد نے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید اسیران سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غزہ میں بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے دفتر کے سامنے ایک احتجاجی دھرنا دیا۔
مظاہرین نے اسیران کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کیے اور عالمی برادری سے پُر زور مطالبہ کیا کہ وہ اسیران کی تکلیفوں کو ختم کرنے اور انہیں جلد از جلد آزاد کرانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
سابق اسیر احمد أبو راس نے پریس بیانات میں کہا کہ قابض دشمن کے عقوبت خانوں میں سسکتے اسیران بھی جینے کا حق رکھتے ہیں۔
احمد أبو راس نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری اسی طرح قابض دشمن پر دباؤ ڈالے جس طرح اس نے قابض اسیران کی رہائی کے لیے فلسطینی مزاحمت پر دباؤ ڈالا تھا۔ انہوں نے دوہرے معیار کی پالیسی ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسیران کو بیماریوں، طبی غفلت، علاج سے محرومی، بھوک، جبر، تشدد اور اجتماعی سزاؤں جیسے سنگین مصائب کا سامنا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک ان مظالم کے نتیجے میں جیلوں کے اندر تقریباً 93 اسیر شہید ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جاری جولائی کے اوائل تک قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیران کی کل تعداد تقریباً 9400 تک پہنچ چکی ہے، جن میں وہ 1320 قیدی بھی شامل ہیں جنہیں قابض دشمن نام نہاد ’’غیر قانونی جنگجوؤں‘‘ کی فہرست میں شمار کرتا ہے، جن میں کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام أبو صفيہ بھی شامل ہیں اور یہ تمام افراد بغیر کسی الزام یا منصفانہ ٹرائل کے من مانے طریقے سے قید ہیں۔
دوسری طرف قابض دشمن غزہ پٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں قیدیوں کا انجام چھپائے ہوئے ہے، اور ان کی حراست کی جگہوں یا صحت کی حالت کے بارے میں بتانے سے صاف انکاری ہے، جس کی وجہ سے تشدد، بھوک اور طبی غفلت کے جرائم کو بے نقاب کرنے والی تسلسل کے ساتھ آنے والی گواہیوں کے سائے میں ان کی زندگیوں کے حوالے سے شدید خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اسیران کے امور کے اداروں اور تنظیموں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ قابض دشمن نے نسل کشی کے آغاز سے لے کر اب تک اپنے عقوبت خانوں اور کیمپوں میں 100 سے زائد اسیران کو شہید کیا ہے، جن میں سے 90 کی شناخت کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
