مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) درجنوں انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے پیر کی صبح مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی پولیس اور اس کے اسپیشل فورسز کے دستوں کی طرف سے فراہم کردہ سخت سکیورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ مبارک کے صحنوں پر دھاوا بول کر ان کی بے حرمتی کی۔
بیت المقدس کے ذرائع نے بتایا کہ 134 یہودی آباد کاروں نے قابض فوج کے سخت پہرے میں باب المغاربہ کے راستے صبح کے اوقات میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بولا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے گروہوں کی شکل میں مسجد میں گھس کر اس کے صحنوں میں گشت کیا اور قبہ صخرہ کے بالمقابل مسجد کے مشرقی حصے میں نام نہاد ’’ہیکل‘‘ کے بارے میں بریفنگ لی اور تلمودی رسومات بھی ادا کیں۔
گذشتہ ہفتے کے دوران نام نہاد ’’ہیکل کی تباہی کی برسی‘‘ کے موقع پر 5411 سے زائد یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا، جس دوران دھاووں کی رفتار میں شدید تیزی دیکھی گئی۔ اسرائیلی کابینہ کے وزراء اور کنیست کے اراکین نے بھی اس میں شرکت کی، اور قابض فوج نے نمازیوں کے خلاف انتہائی سخت اقدامات نافذ کیے۔
القدس گورنری کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 2021ء سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں یہ تعداد سنہ 2022ء اور سنہ 2023ء میں تقریباً 2200 حملہ آوروں سے بڑھ کر سنہ 2024ء میں تین ہزار، پھر سنہ 2025ء میں تقریباً چار ہزار ہو گئی، اور رواں سال کے دوران پانچ ہزار حملہ آوروں کی شرکت کے ہدف پر مشتمل پلان پر عمل جاری ہے۔
