نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی فرانسسكا ألبانيز نے کہا ہے کہ “قابض اسرائیلی مسلح عناصر مقبوضہ مغربی کنارے میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اپنے جان لیوا حملوں میں مسلسل تیزی لا رہے ہیں۔”
فرانسسكا البانیز نے نابلس کے مغرب میں واقع قصبے “تل” میں چار فلسطینی شہریوں کی شہادت اور دیگر کے زخمی ہونے کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے بیانات میں ان حملوں کو فوری طور پر روکنے اور ان کے ذمہ داروں کا کڑا محاسبہ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ان غاصبوں نے تل اور فرعتا کے دیہاتوں میں پانچ آدمیوں پر انتہائی سفاکی کے ساتھ ٹھنڈے دل سے گولیاں برسائیں اور ان کے رہنما اس قبیح فعل کا کھلے عام چرچا بھی کرتے ہیں”۔
فلسطینی وزارتِ صحت نے تصدیق کی تھی کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں واقع شہر نابلس کے قصبے “تل” کے اطراف میں قابض اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے کیے جانے والے اس سفاکانہ حملے کے نتیجے میں 4 فلسطینی شہید اور 4 زخمی ہو گئے، جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔
تل اور اس کے گردونواح میں شدید کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے، جہاں قابض فوج نے اضافی فوجی دستے روانہ کر کے علاقے کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے اور آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس کے کناروں پر یورش جاری رکھی ہے، جبکہ باسی اپنے گھروں اور زرعی زمینوں کو کسی بھی نئے مجرمانہ حملے سے بچانے کے لیے تاحال دفاعی اور پرعزم حالت میں ڈٹے ہوئے ہیں۔
