دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے فلسطین بھر کے (میٹرک) کے طلبہ کو امتحانات کے نتائج کے اعلان پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی کامیابی، خصوصاً غزہ کی پٹی کے طلبہ کی کامیابی، جنگ، تباہی اور ان کے عزم کو توڑنے کی تمام سازشوں پر فلسطینی عوام کی غیر متزلزل فتح کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جماعت کے سیاسی بیورو کے سربراہ ڈاکٹر خليل الحيہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ طلبہ علم، محنت اور ذاتی تعمیر کے میدان میں ایک بہت بڑے چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں، اور انہوں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ علم ایک ایسے تعلیم یافتہ فلسطینی معاشرے کی تشکیل کا بنیادی ستون ہے جو قابض کی اس پالیسی کا بھرپور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مقصد فلسطینی نسلوں کو جاہل رکھنا اور ان کی بقا کے تمام ذرائع کو تباہ کرنا ہے۔
ڈاکٹر خليل الحيہ نے مزید کہا کہ طلبہ نے قتل و غارت، بربادی اور محرومی کے باوجود یہ ثابت کر دیا ہے کہ زندگی اور تعمیر کا عزم قابضین کے قتل اور بربادی کے آلات سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، انہوں نے اس کامیابی کو ایک دوہری کامیابی قرار دیا جو خاص معانی رکھتی ہے اور طلبہ کے لیے مزید کامیابیوں کی تمنا کی۔
تحریک نے ایک بیان میں اس عظیم کارنامے کو سراہا جو غزہ کی پٹی کے طلبہ نے جاری جنگ، محاصرے، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی بربادی، اور لاکھوں طلبہ کو تعلیم کے حق سے محروم کیے جانے کے باوجود انجام دیا۔
بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ غزہ کی پٹی سے میٹرک کے نتائج کا اعلان اس بات کا غماز ہے کہ یہ کامیابی تعلیمی میدان کی حدوں سے بہت آگے کی کہانی ہے، اور یہ اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ فلسطینی اپنے حقِ تعلیم سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے اور گولہ باری، بھوک اور پیاروں کے بچھڑنے کے باوجود اپنا سفر جاری رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
تحریک نے وضاحت کی کہ طلبہ نے گھروں، اسکولوں اور بجلی کی سہولت کے بغیر بھی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، اور ان کا یہ پرعزم رویہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ زندگی، کامیابی اور تعمیر کا جذبہ کوئی طاقت کبھی شکست نہیں دے سکتی۔
بیان میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ فلسطین کے یہ نونہال ملبے کے ڈھیر اور مصائب کے دل سے سرخرو ہو کر نکلتے ہیں، اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ علم کے دامن کو تھامے رکھیں گے اور تعلیمی نظام کو خاک میں ملانے اور جہالت پھیلانے کی قابض فوج کی ہر گھناؤنی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
تحریک نے اپنے بیان کے آخر میں کامیاب ہونے والے طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی، ان کے شاندار مستقبل کے لیے دعا کی، ان طلبہ کے لیے مغفرت کی دعا کی جو اس جنگ میں جامِ شہادت نوش کر گئے، اور تمام زخمیوں کی جلد از جلد صحت یابی کے لیے تمنا کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم نے جمعہ کی صبح ایک پریس کانفرنس کے دوران سنہ 2026ء کے لیے مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور بیرونِ ملک کے باقاعدہ طلبہ کے لیے میٹرک کے امتحانات کے نتائج کا باضابطہ اعلان کیا تھا، جس میں مختلف شعبوں میں پوزیشنیں حاصل کرنے والے نمایاں طلبہ کے نام بھی جاری کیے گئے تھے۔
وزارت نے بتایا کہ امتحانات میں حصہ لینے والے کُل طلبہ کی تعداد مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس، غزہ کی پٹی اور باہر 89 ہزار تھی، جبکہ مغربی کنارے، بیت المقدس اور باہر کے علاقوں میں کامیابی کا کُل تناسب 74 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
