غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوجیں مسلسل 287 ویں دن بھی غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی پامالی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران فضائی حملوں، توپ خانے کی گولہ باری، فائرنگ اور گھروں و سول تنصیبات کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیوں کو شدید تر کر دیا گیا ہے، جبکہ نام نہاد ’یلو لائن‘ کے دائرہ کار کو پھیلانے کا مکروہ عمل بھی جاری ہے جس پر شدید خطرات کا اظہار کرتے ہوئے فوری عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
شمالی غزہ کی پٹی میں واقع یمن السعيد ہسپتال کے اطراف میں ایک قابض ڈرون کے حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع شہر خان یونس کے مغرب میں ’ أھل الخیر کیمپ 2 ‘ کے اندر قابض صہیونی ڈرون کے ایک اور حملے میں ایک فلسطینی شہید اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔
قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوب مشرق میں واقع کرم ابو سالم گذرگاہ کے اندر سے متعدد ٹرک ڈرائیوروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
جمعرات کی صبح قابض افواج کی جنگی مشینری اور گاڑیوں کی جارحانہ فائرنگ کے نتیجے میں دو فلسطینی شہری زخمی ہو گئے، جنہوں نے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس کے مواصی علاقے میں واقع البریج کیمپ میں بے گھر افراد کے آباد خیموں کو نشانہ بنایا۔
شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ کے مغرب میں واقع علاقے الفالوجا میں گذشتہ روز قابض اسرائیلی حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے نوجوان محمد أبو شکیان جامِ شہادت نوش کر گئے۔
جمعرات کے روز قابض فوج کے توپ خانے نے غزہ سٹی کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی، جبکہ قابض فورسز کی گاڑیوں نے الزيتون کالونی کے مشرق میں اندھا دھند فائرنگ کی اور شہر کے مشرقی حصے میں تباہ کن انہدامی کارروائیوں کو انجام دیا۔
قابض فوج کا توپ خانہ شہر غزہ کے جنوب مشرق میں واقع حی الزيتون کو مسلسل نشانہ بناتا رہا، اور شہر کے شمال مشرق میں حی التفاح کے اندر مفترق السنافور کے اطراف میں بھی گولہ باری کی گئی، اسی دوران قابض بحریہ کے جنگی جہازوں نے غزہ شہر کے ساحل کی جانب بھی فائرنگ کی۔
وسطی غزہ کی پٹی میں واقع شہر دیر البلح کے مشرقی علاقوں پر بھی قابض فوج کے توپ خانے نے گولے برسائے۔
قابض گاڑیوں نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے مشرق میں فائرنگ کی، جبکہ شہر کے جنوبی حصے میں شدید اور مسلسل فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، اس دوران خان یونس کے جنوب میں پوزیشن سنبھالے بیٹھی قابض فوج کی جنگی گاڑیوں کی فائرنگ سے شہر کے جنوب مغرب میں واقع ’الکنيس‘ کے علاقے میں بے گھر افراد کے خیمے بھی گولوں کی زد میں آ گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ شہید ہونے والے تین شہریوں میں عبد الله حسان جو چند روز قبل الغفری چو ک پر ہونے والے حملے میں زخمی ہونے کے بعد شہداء کے قافلے میں شامل ہو گئے، اس کے علاوہ شہید صائب أحمد أبو معلا – جو النصيرات کے شمال مغرب میں واقع تبہ النويری میں شہید ہوئے۔ شہری مفيد عبد الحميد أبو العينين جو خان یونس کے مواصی علاقے میں بئر 19 کے مقام پر قابض گاڑیوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔
قابض اسرائیلی فوجیں فضائی اور زمینی بمباری کے ذریعے بے گھر افراد کے علاقوں کو نشانہ بنا کر نام نہاد یلو لائن کے اندر تباہی پھیلا کر اور سامان، امداد نیز سفر کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر کے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی دھجیاں اڑاتی چلی آ رہی ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ گذشتہ سال 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1180 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3810 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 802 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیل کے اس ہولناک وحشیانہ حملے کی کل تعداد اب تک 73 ہزار 305 شہداء اور ایک لاکھ 73 ہزار 918 زخمیوں تک جا پہنچی ہے، جو اس مسلسل سفاکانہ جنگ کی انتہائی بھیانک انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
