دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ نے جنگ بندی مذاکرات میں ثالث ممالک یعنی مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان کو باضابطہ پیغام ارسال کیے ہیں جن میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی مسلسل غنڈہ گردی اور معاہدوں کی پامالیاں رکوانے کے لیے فوری طور پر عملی قدم اٹھایا جائے۔
خلیل الحیہ نے اپنے پیغامات میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن کی ضمانت دینے والے کسی بھی سمجھوتے سے فرار حاصل کرنے کے لیے دانستہ طور پر خونریز خلاف ورزیوں کو ہوا دے رہا ہے۔
انہوں نے ان مجرمانہ خلاف ورزیوں کی تمام تفصیلات پیش کیں جن میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا، گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنانا، نئی زمینوں پر دوبارہ غاصبانہ قبضہ جمانا، ہسپتالوں اور سروسز اداروں کے لیے انتہائی ضروری انسانی و طبی امداد اور تعمیراتی سامان کی آمد پر پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی ان غنڈہ گردیوں کے نتیجے میں اب تک 1143 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں 409 خواتین، بچے اور مسن افراد شامل ہیں، جبکہ 3616 مواطن زخمی ہوئے ہیں جن میں 1789 کا تعلق بھی انہی کمزور طبقوں سے ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سفاکانہ حربے ضمانت دینے والے ممالک اور اس معاہدے کی پشت پناہی کرنے والے عالمی معاشرے کے عزم کو کھلا چیلنج ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب تک طے پانے والے سمجھوتے کی حفاظت اور اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کی کوششوں کو ثمرآور بنانے کے لیے فوری اور پُرعزم اقدام کیا جائے۔
قابض اسرائیلی فوجیں پیہم فائرنگ اور فضائی بمباری کے ذریعے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی دھجیاں اڑاتی چلی آ رہی ہیں، نام نہاد یلو لائن کے اندر گھروں کو بموں سے اڑایا جا رہا ہے اور اشیاء، امداد اور سفر کی نقل و حرکت پر سخت ترین قدغنیں بدستور برقرار ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ گذشتہ سال 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1180 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3810 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 802 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیل کی جانب سے اس ہولناک اور وحشیانہ نسل کشی کےشہداءکی تعداد اب تک 73 ہزار 305 اور ایک لاکھ 73 ہزار 918 زخمیوں تک جا پہنچی ہے جو اس مسلسل سفاکانہ جنگ کی انتہائی بھیانک انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
