تحریر: محمد واحدی
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)قطری یونیورسٹی کے پروفیسر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ خلیج فارس کے ممالک کی حفاظت کے بجائے اپنی اور اسرائیل کی حفاظت ان کے ذریعے سے کروا رہا ہے۔ حقیقت میں یہ ممالک خطے میں امریکی فوج کا دفاع کر رہے ہیں۔ قطر یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر علی الحیل نے کہا ہے کہ ایران کے گرد تنازعات کے بعد خطے کے عرب ممالک میں بہت سے لوگوں نے امریکی اڈوں کی افادیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ رشیا ٹوڈے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق قطری پروفیسر کا کہنا ہے کہ “حقیقت یہ ہے کہ خلیج فارس کے ممالک سمیت بہت سے لوگ اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ امریکہ خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ اس قدر مضحکہ خیز اور عجیب و غریب سلوک کیوں کر رہا ہے۔
عرب ماہر نے مزید کہا کہ جب ایرانی میزائل اور ڈرون تل ابیب کی طرف بڑھتے تھے تو امریکہ انہیں سمندر سے روک لیتا تھا، لیکن جب ایرانی ڈرون اور ایرانی میزائلوں کی ایک بڑی تعداد خلیجی ریاستوں کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے تو امریکہ کچھ نہیں کرتا اور خلیجی ریاستوں کا بالکل دفاع نہیں کرتا۔ سعودی وزیر خارجہ کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسی لیے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے تقریباً ایک ماہ قبل کہا تھا کہ گذشتہ 36 سالوں سے ہم یہ سمجھتے تھے کہ خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈے ہمارا دفاع اور تحفظ کر رہے ہیں، لیکن اب ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں کا دفاع ہم کر رہے ہیں۔
الحیل نے زور دے کر کہا کہ “(امریکی) فوجی اڈوں نے حقیقت میں خلیجی ریاستوں کی حفاظت نہیں کی ہے۔ وہ ایران کو حملوں پر اکسا رہے ہیں بلکہ انہیں راغب کر رہے ہیں۔۔۔ امریکی اڈے واقعی بیکار ہیں اور انہوں نے خلیجی ریاستوں کا دفاع اور تحفظ نہیں کیا ہے۔ ہم ہی ہیں، جنہوں نے ان اڈوں کی حفاظت کی ہے۔ ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی فوجی جارحیت کے بعد ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکہ سے متعلقہ ٹھکانوں اور تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں نے مغربی ایشیاء میں امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ماہرین کے مطابق اب خطے میں امریکی اڈوں کی تاثیر پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے۔