مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض حکام یہودی مذہبی تہواروں اور تقریبات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دھاووں کو تیز کر رہے ہیں اور ایسے اشتعال انگیز اقدامات کر رہے ہیں جو مسجد اقصیٰ کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
شیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ قابض اسرائیل نے گذشتہ برسوں کے دوران اپنے مخصوص تہواروں کی آڑ میں مسجد اقصیٰ پر وسیع پیمانے پر دھاوے بولنے کو اپنا وتیرہ بنا لیا ہے جن کی قیادت قابض اسرائیلی وزراء، اہلکار اور کنیسٹ کے ارکان کرتے ہیں تاکہ ان وحشیانہ حملوں اور سفاکیت کو سیاسی جواز فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے مسجد اقصیٰ کو درپیش ان بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا جو قابض اسرائیل کی ان تیز رفتار پالیسیوں کے سائے میں منڈلا رہے ہیں جن کا مقصد مسجد میں موجود تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جارحانہ دھاوے، چاہے ان میں شامل ہونے والوں کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو یا انہیں کتنی ہی سرکاری سرپرستی حاصل ہو، قابض اسرائیل کو مسجد اقصیٰ میں کسی قسم کا کوئی حق نہیں دے سکتے کیونکہ وہاں اس کی موجودگی سراسر غاصبانہ تسلط اور کھلی جارحیت ہے جو بین الاقوامی قانون اور مظلوم فلسطینی عوام کے مسلمہ حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مسجد کے احاطے کے نیچے اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مسلسل کھدائیوں کے ذریعے مسجد کو نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کیا اور خبردار کیا کہ ان کھدائیوں کے باعث مسجد کو شدید خطرات لاحق ہیں جنہوں نے اس کی بنیادوں کے کچھ حصوں کو ننگا کر دیا ہے اور ان کے اردگرد موجود مٹی کی بھاری مقدار کو ہٹا دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل ایک ایسے مرحلے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں مسجد اقصیٰ کا کوئی حصہ منہدم ہو جائے یا اسے بظاہر قدرتی لگنے والے عمل کے ذریعے شدید نقصان پہنچے تاکہ اسے ایسے طریقے سے مسمار کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے جو وسیع تر عوامی ردعمل کو جنم نہ دے۔
خطرناک جارحیت
ہیکل نامی انتہا پسند تنظیمیں آج جمعرات کے روز نام نہاد ہیکل کی تباہی کی یاد میں بھاری تعداد میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کے لیے متحرک ہیں جہاں وہ پانچ ہزار سے زائد دراندازوں کو جمع کرنے کی ناپاک کوشش کر رہی ہیں۔
ایک انتہائی خطرناک پیش رفت میں ہیکل نامی انتہا پسند گروہوں سے وابستہ سمجھے جانے والے یہودی آباد کاروں نے مشرقی صحن کے پتھروں پر ایک یہودی نعرہ کندہ کر دیا ہے جس کے ساتھ یہ درانداز گذشتہ کئی سالوں سے ایسا سلوک کر رہے ہیں گویا یہ مسجد کے احاطے کے اندر ایک غیر اعلانیہ یہودی عبادت گاہ ہو۔
مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیانے کی کارروائیاں بھی نام نہاد خودمختاری مارچ کے انعقاد کے ذریعے جاری رہیں جو باغِ استقلال سے شروع ہو کر قدیم شہر کے دروازوں کے گرد چکر لگاتا ہے تاکہ میدانی فضا کو ہموار کیا جا سکے اور جمعرات کے روز ہونے والے بڑے منصوبے کی تیاری کے لیے یہودی آباد کاری کے دباؤ کو مزید تیز کیا جا سکے۔
ان خطرناک اقدامات نے مقدسی اور فلسطینی حلقوں کی جانب سے وسیع انتباہات کو جنم دیا ہے جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میدانی شواہد انتہائی دائیں بازو کی قابض حکومت کے ان مذموم ارادوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو رسومات مسلط کرنے اور یہودیانے کے مرحلے سے نکل کر مسجد اقصیٰ کے کچھ حصوں کو مستقل یہودی معبد میں تبدیل کرنے کے ذریعے اس مقام کی عملی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ان حلقوں کو بجا طور پر یہ تشویش لاحق ہے کہ ان بڑھتے ہوئے دھاووں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا اور مشرقی صحن کی اسلامی شناخت کو مٹانا دراصل مسجد میں مکمل زمانی اور مکانی تقسیم کی راہ ہموار کر رہا ہے جو خطے کو انتہائی حساسیت اور پیچیدگی کے مرحلے کی جانب دھکیل رہا ہے۔
مقدسی اور فلسطینی حلقوں کی جانب سے مقبوضہ علاقوں اور مقدس شہر میں مقیم ہمارے غیور عوام کو یہ پرزور اپیلیں کی گئی ہیں کہ وہ یہودی آباد کاروں اور ان کی انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند حکومت کے مذموم منصوبوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور انداز میں نکلیں اور قبلہ اول کا دفاع کریں۔
