غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنگ بندی کے اعلان کے 280 دن گزرنے کے باوجود غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کے فوجی حملے بدستور جاری ہیں۔ شہداء کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مختلف علاقوں میں بمباری اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ فلسطینی حکام کے مطابق یہ معاہدہ عملی طور پر زمین پر نافذ نہیں ہو سکا۔ فوجی خلاف ورزیوں کا تسلسل اور انسانی امداد کی ترسیل میں کمی انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے، جس سے اس معاہدے کی افادیت اور اس کے نفاذ کو یقینی بنانے میں ثالثوں کے کردار پر بڑھتے ہوئے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج نے گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران کئی قتلِ عام کیے جن کے نتیجے میں 25 سے زائد شہری شہید ہوئے۔ میڈیا آفس نے تصدیق کی کہ عوامی بازاروں، جنازوں، شہری اجتماعات اور رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
میڈیا آفس نے مزید کہا کہ یہ کشیدگی جنگ بندی کے 280 دن بعد سامنے آئی ہے۔ انہوں نے معاہدے کی 3,750 سے زائد خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے اور قابض دشمن کو فوجی کارروائیوں کے تسلسل کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ساتھ ہی ثالثوں اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کریں اور اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالیں۔
النصیرات .. جنازہ ایک قتلِ عام میں بدل گیا
وسطی غزہ کی پٹی میں النصیرات کیمپ کو سب سے خونی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قابض طیاروں نے ایک مسجد کے قریب شہید طاہر عبد الواحد کے جنازے میں شریک افراد کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق سات فلسطینی شہید اور بیس سے زائد زخمی ہوئے۔
پٹی کے مختلف علاقوں میں بھی فضائی حملوں اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں خان یونس، بیت لاہیا اور غزہ شہر میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ حملے توپ خانے، فضائی بمباری اور کئی محاذوں پر فوجی دراندازی کے ساتھ کیے گئے۔
بڑھتی ہوئی تعداد
غزہ میں وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ ہسپتالوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار شہداء اور 28 زخمی لائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے شہداء کی تعداد 1,127 اور زخمیوں کی تعداد 3,643 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں شہداء کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی جنگ میں کل شہداء کی تعداد 73 ہزار 250 اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار 751 ہو چکی ہے۔
قابض اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے
سیاسی تجزیہ کار ایاد القرا کا کہنا ہے کہ میدانی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ بندی کا معاہدہ اپنی افادیت مکمل طور پر کھو چکا ہے کیونکہ اسرائیلی بمباری روزانہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل دن رات اپنے میزائلوں سے جنگ بندی کے معاہدے کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔ انہوں نے النصیرات کیمپ کے قتلِ عام اور ’خطِ زرد‘ کے اندر تباہ کاریوں کا حوالہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی کسی بھی شق کا احترام نہیں کیا، چاہے وہ فوجی کارروائیاں روکنا ہو، زمینی دراندازی بند کرنا ہو یا ’خطِ زرد‘ کی توسیع کو روکنا ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل انسانی پہلو سے بھی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے کیونکہ امداد کی فراہمی ضرورت کے انتہائی کم درجے پر ہے۔
جنازوں کو نشانہ بنانا فلسطینی معاشرے کے خلاف جنگ
تجزیہ کار محمد شاہین کا کہنا ہے کہ غزہ میں، خاص طور پر النصیرات میں جو کچھ ہوا وہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی پالیسی ہے جو پورے فلسطینی معاشرے کو نشانہ بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنازے کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فلسطینی اب “اپنے مردوں کو الوداع کہنے کا حق بھی نہیں رکھتے”۔ یہ جنازوں کو نشانہ بنانا پورے فلسطینی معاشرے کو ایک پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض فوج افراد کے خلاف نہیں بلکہ زندگی کے تمام ستونوں، گھروں، ہسپتالوں، مساجد اور جنازوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے تاکہ فلسطینیوں کی اجتماعی یادداشت کو تباہ اور ان کی مزاحمت کو توڑ سکے۔
شاہین نے زور دیا کہ جنازوں کو فوجی اہداف میں تبدیل کرنا ان کے مسلسل نمونے سے مطابقت رکھتا ہے جس کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جرائم اپنے سیاسی یا فوجی مقاصد حاصل نہیں کریں گے، بلکہ یہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے باوجود قابض اسرائیل کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔
ثالثوں کے لیے پیغام ،اسرائیل کے احتساب کے مطالبات
شاہین نے کہا کہ ان قتلِ عام کا سب سے خطرناک پہلو بین الاقوامی رکاوٹ کا فقدان ہے، اور صرف مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں، کیونکہ یہ اسرائیل کو سزا سے بچنے کا موقع دیتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ کو صرف ہمدردی کی نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون کے نفاذ، شہریوں کے تحفظ اور ان کے قتلِ عام کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ثالثوں سے اپیل کی کہ وہ قابض اسرائیل کو روکنے کے لیے زیادہ موثر کردار ادا کریں، اس کے جرائم کو میڈیا کے سامنے لائیں اور ذمہ داروں کا قانونی احتساب کریں۔
