رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2026ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران صحافیوں کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سنڈیکیٹ نے اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 467 خلاف ورزیاں دستاویزی شکل میں ریکارڈ کی ہیں، جن میں قتل، زخمی کرنا، گرفتاریاں، کوریج سے روکنا اور میڈیا ٹیموں کو براہ راست نشانہ بنانا شامل ہے۔
رام الله میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران سنڈیکیٹ نے اعلان کیا کہ فریڈم کمیٹی نے رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک قابض افواج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا کے شعبے سے وابستہ افراد کے خلاف 467 جرائم کی نشاند ہی کی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یہ خلاف ورزیاں کوریج پر پابندی، گرفتاریوں، جسمانی نشانہ بنانے، اس کے علاوہ لائیو فائرنگ، گیس بموں کے استعمال اور صحافیوں کے خلاف عدالتی کارروائیوں کی شکل میں سامنے آئیں۔
صرف کوریج سے روکنے اور میڈیا ٹیموں کو حراست میں لینے کے 192 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو کہ کل دستاویزی خلاف ورزیوں کا 41 فیصد سے زائد بنتے ہیں۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فروری کے مہینے میں سب سے زیادہ 122 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، اس کے بعد جنوری میں 109، جون میں 89، مارچ میں 53، اپریل میں 39 اور مئی کے مہینے میں 55 خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
فریڈم کمیٹی کے سربراہ محمد اللحام نے اس بات کی تأکید کی کہ یہ رپورٹ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کے تناظر میں صحافی برادری کی زمینی حقیقت کو دستاویزی شکل دیتی ہے اور صحافیوں کے خلاف صیہونی مظالم کے تسلسل کو بے نقاب کرتی ہے۔
محمد اللحام نے بتایا کہ سال کے پہلے چھ مہینوں کے دوران 8 صحافی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جس کے بعد 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک شہید ہونے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد 264 ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں 27 گرفتاریاں، 29 براہ راست فائرنگ کے واقعات، 78 بار گیس اور ساؤنڈ بموں کا استعمال ریکارڈ کیا گیا، جبکہ میڈیا ٹیموں پر براہ راست گولیاں چلانے کے کل واقعات 257 اور گیس و ساؤنڈ بم برسانے کے واقعات 393 تک پہنچ گئے۔ اس کے علاوہ 19 صحافیوں کو مسجدِ اقصی میں داخلے سے روکا گیا۔
رپورٹ میں مئی کے دوران فائرنگ سے دو زخمی ہونے کے واقعات، 14 بار تشدد کا نشانہ بنانے، گیس سے دم گھٹنے کے دجنوں واقعات، 16 بار ہتھیار کے ذریعے دھمکانے، اور آباد کاروں کی طرف سے 6 حملوں کو بھی دستاویزی شکل دی گئی۔
سنڈیکیٹ نے صحافتی آلات کی توڑ پھوڑ یا ضبطی کے 22 واقعات، گھروں اور میڈیا اداروں پر چھاپوں کی 7 وارداتیں، 3 میڈیا اداروں کی بندش، 5 ویب سائٹس پر پابندی، اور 192 بار کوریج سے محروم کرنے کے اقدامات کو ریکارڈ کیا۔
سنڈیکیٹ نے انکشاف کیا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے لے کر جون 2026ء کے آخر تک صحافیوں کے خلاف مجموعی طور پر دستاویزی خلاف ورزیوں کی تعداد 4127 تک پہنچ چکی ہے۔
ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 264 صحافی شہید، 226 زخمی، اور 193 گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ 187 میڈیا ادارے اور صحافیوں کے 140 گھر تباہ کر دیے گئے، اس کے علاوہ ان کے خاندان کے 713 افراد بھی شہید ہو چکے ہیں۔
سنڈیکیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اعداد و شمار اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا ایک سوچی سمجھی اور منظم جارحیت کا حصہ ہے جس کا مقصد میڈیا کی آزادی اور حقِ معلومات کا گلا گھونٹنا ہے۔ سنڈیکیٹ نے عالمی برادری اور صحافتی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
دوسری جانب، سنڈیکیٹ کے سربراہ ناصر أبو بكر نے کہا کہ یہ رپورٹ مقبوضہ علاقوں بالخصوص غزہ کی پٹی میں صحافیوں کے خلاف کیے جانے والے تمام جنگی جرائم کا احاطہ کرتی ہے۔
ناصر أبو بکر نے واضح کیا کہ سنڈیکیٹ نے بین الاقوامی فیڈریشن آف جرنلسٹس کی سرپرستی میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران، خصوصی رپورٹرز اور انسانی حقوق کمیشن کی موجودگی میں ان تمام خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی نیشنل یونین آف جرنلسٹس نے فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ کو مطلع کیا ہے کہ وہ فلسطین میں صحافیوں کے خلاف کیے جانے والے جنگی جرائم پر فرانس کی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور اس کے علاوہ فدائی ورکرز یونین کے ذریعے بھی ایک اور قانونی کارروائی زیر غور ہے۔
ناصر أبو بکر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سنڈیکیٹ بین الاقوامی اداروں بالخصوص بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ساتھ مل کر ان فائلوں کو پرزور انداز میں آگے بڑھا رہی ہے، اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کے عمل کو تیز کیا جائے اور فلسطینی صحافیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے مجرموں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔
