Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس کی نئی قیادت، خلیل الحیہ سیاسی بیورو کے سربراہ منتخب

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ مجاہد رہنما خلیل الحیہ کو تحریک کے سیاسی بیورو کا نیا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے، جو شہید رہنما یحییٰ سنوار کی جانشین ہوں گے۔

یہ اعلان حماس نے مجلسِ شوریٰ عام کے اندرونی انتخابات کی تکمیل کے بعد ایک مختصر بیان میں کیا۔

اندرونی انتخابی عمل کا پُروقار اختتام

بعد ازاں ایک تفصیلی بیان میں حماس نے وضاحت کی کہ مجاہد رہنما خلیل الحیہ کا یہ انتخاب ایک منظم اندرونی انتخابی عمل کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے۔ اس جامع شوریٰ اور ادارہ جاتی عمل میں غزہ کی پٹی، مغربی کنارے، قابض دشمن کی جیلوں اور فلسطین سمیت بیرونِ ملک موجود تحریک کے تمام حلقوں اور اکائیوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔

جماعت نے مجاہد رہنما خلیل الحیہ کو اپنے اکابرین اور ذمے داران کا پختہ اعتماد حاصل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی ہے کہ وہ انہیں اس گراں قدر امانت کو نبھانے، درست سمت پر استقامت سے گامزن رہنے اور ہمارے مظلوم عوام و قومی نصب العین کی خدمت میں کامیابی سے سرفراز فرمائے۔

بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کسی بھی بات سے پہلےحماس غزہ کی پٹی کے ان باحوصلہ اور غیور عوام کے سامنے عقیدت سے سر جھکاتی ہے جنہوں نے نسل کشی کی اس ہولناک جنگ کو اپنی جانوں، جسموں، اجڑے گھروں اور محدود وسائل کے ساتھ بڑی بہادری سے جھیلا ہے۔ انہوں نے اپنے ان لامتناہی مصائب کو حریت پسندوں کے لیے ایک روشن مینار میں تبدیل کر دیا اور پوری انسانیت کو استقامت اور وقار کا نیا درس دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اس سرفراز غزہ سے، مقبوضہ بیت المقدس اور مسجدِ اقصی کی ارضِ پاک تک وہ سلام پہنچتا ہے جہاں ہمارے عوام یہودیانے ، تقسیم کی سازشوں اور یہودی آباد کاروں کے ناپاک دھاووں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ مغربی کنارے کے ان غیور بھائیوں کو بھی سلام جو آباد کاری، اندھا دھند گرفتاریوں، توڑ پھوڑ اور روزانہ کے فوجی چھاپوں کے طوفان کا سینہ سپر مقابلہ کر رہے ہیں۔ سرزمینِ 1948ءکے ان درخشاں ستاروں کو بھی خراجِ تحسین جو اپنی شناخت اور فکری وابستگی پر چٹان کی طرح ثابت قدم ہیں، دنیا بھر کے کیمپوں اور دنیا بھر میں بسنے والے ان مہاجر فلسطینیوں کو بھی جو اس امانتِ مقدسہ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
حماس نے قابض دشمن کی زندانوں میں قید اپنے ان بہادر اسیران کو بھی سلام عقیدت پیش کیا جنہوں نے تمام تر ظالمانہ پابندیوں کے باوجود اس شوریٰ کے عمل میں بھرپور حصہ لیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی آزادی اور رہائی تحریک کی اولین ترجیحات میں ہمیشہ سرفہرست رہے گی۔

بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اتنے انتہائی پیچیدہ سکیورٹی اور سیاسی حالات میں جب تحریک کی قیادت، مخلص کارکنوں اور ہمارے عوام کو اندرون ملک اور باہر ہدف بنایا جا رہا ہے، اس انتخابی مرحلے کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانا کوئی معمولی انتظامی معاملہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ حماس ایک ایسی اصولی اور منظم تحریک ہے جو اپنے اداروں اور شوریٰ کے اصولوں پر چلتی ہے اور اپنے داخلی ضوابط و قوانین کی سختی سے پابند ہے۔

جماعت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اس کے تمام فرزند، قائدین اور ادارے پوری ذمہ داری اور وحدت کے جذبے کے ساتھ نو منتخب قیادت کی پشت پر ایک مضبوط دیوار کی طرح کھڑے ہیں اور اپنے قومی اور جہادی فریضے کو پوری تندہی سے انجام دیتے رہیں گے۔ اس موقع پر حماس نے اندرونی و بیرونی تمام شعبوں، دفاتر اور تنظیمی ڈھانچوں کے ان تمام کارکنوں اور ذمے داران کی گراں قدر محنت کو بھرپور سراہا جنہوں نے اس انتخابی عمل کو غیر معمولی سکیورٹی چیلنجز کے باوجود کامیابی سے ہمکنار کیا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ اگرچہ تاریخ کے ہر دور کے اپنے مخصوص سوالات، پیچیدہ حقائق اور کٹھن چیلنجز ہوتے ہیں لیکن آج ہمارے فلسطینی عوام جس نازک موڑ سے گزر رہے ہیں، وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ تمام قوتیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ غزہ، مغربی کنارہ، بیت المقدس، اندرون فلسطین کے علاقوں اور سمندر پار کی آوازیں ایک ہوں تاکہ موجودہ حالات کا گہرا فہم اور دور اندیشی کے ساتھ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ یہ سب کچھ وحدتِ امت، پختہ عزم اور ہمارے عوام کے جائز حقوق اور اُمیدوں سے گہری وابستگی کا متقاضی ہے۔

حماس نے اپنے ان تمام جاں نثار شہداء اور قائدین کی ارواحِ طیبہ کو انتہائی احترام کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے آزادی کے اس مقدس راستے پر اپنی جانیں نچھاور کیں۔ ان میں سرکردہ شہداء بالخصوص معرکہ طوفانِ الاقصیٰ کے وہ ہیرو شامل ہیں جنہوں نے اپنی خون سے ہمارے عظیم اور مقدس نصب العین کی تاریخ میں ایک تابناک باب رقم کیا۔ ان میں شہید رہنما اسماعیل ہنیہ، شہید رہنما صالح العاروری، شہید رہنما یحییٰ السنوار، القسام بریگیڈز کے کمانڈر جنرل شہید محمد ضیف اور تحریک کے دیگر تمام شہداء، قائدین، کارکنان اور دیگر فلسطینی فصائل کے مجاہدین شامل ہیں۔

حماس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب وہ اپنا یہ داخلی ہدف کامیابی سے مکمل کر رہی ہے، تو اس کی تمام تر توجہ اور اولیں ترجیح غزہ کے عوام پر مسلط اس وحشیانہ جارحیت کا خاتمہ، ان کے ناقابلِ تسخیر حقوق کا تحفظ اور غزہ کے محصورین کی تکالیف کا مداوا ہے۔ اس مقصد کے لیے فوری محاصرے کا خاتمہ، طبی اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی، ایک منصفانہ اور جامع تعمیرِ نو کے عمل کا آغاز اور کسی بھی نام یا حیلے سے ڈھلنے والے جبری انخلاء کے تمام غاصبانہ منصوبوں کی بیخ کنی اس کے لائحہ عمل کا بنیادی حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور اسیرانِ وطن کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

حماس نے اپنے صابر و شاکر عوام، امتِ عربی و اسلامی کے تمام مخلص بھائیوں، ان برادر ممالک جنہوں نے تحریک اور اس کی قیادت کو خلوص کے ساتھ پناہ دی اور دنیا بھر کے تمام حریت پسندوں کا شکریہ ادا کیا جو اس حق کی جنگ میں فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ تحریک نے عہد کیا کہ وہ آخری سانس اور آزادی و واپسی کی منزل تک شہداء کے مقدس لہو، زخمیوں کی سسکیوں، اسیران کی قربانیوں اور اپنے عظیم عوام کے پختہ عزم کے ساتھ ہمیشہ وفادار رہے گی۔

مرد مجاھد اصولوں کا پاسبان

مجاہد رہنما خلیل الحیہ کا شمار حماس کے ان مدبر اور بہادر قائدین میں ہوتا ہے جنہوں نے سیاسی فہم و فراست اور ایک سچے مجاہد کے عزمِ صمیم کو ہمیشہ یکجا رکھا ہے۔ انہوں نے کبھی میدانِ عمل اور محاذِ جنگ کی سختیوں سے منہ نہیں موڑا۔

انہیں بجا طور پر ’’ مردمیدان اور اصولوں کا پاسبان‘‘ کہا جاتا ہے جنہوں نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی تحریک کی قیادت کا بوجھ اٹھایا اور آزادی کے حصول تک مزاحمت کے راستے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔

مجاہد رہنما خلیل الحیہ نے اپنے چار بیٹوں سمیت اپنے خاندان کے متعدد عزیزوں کو اس راہِ حق میں قربان کیا، لیکن دشمن کی قید و بند اور اپنوں کی جدائی کے صدمات کے باوجود وہ اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔

حرکتِ قلبی اور فکری پختگی کی حامل یہ قدآور شخصیت پہلی انتفاضہ کے نڈر معرکوں سے کندن بن کر نکلی تھی، جنہوں نے معرکہ طوفانِ الاقصیٰ میں صفِ اول میں کھڑے ہو کر عملی قیادت کی اور ہر مشکل موڑ پر اصولوں کی بالادستی کا پرچم بلند رکھا۔

یہ تاریخی انتخاب اس بات کا غماز ہے کہ حماس اپنے شہداء اور اکابرین کے طے کردہ روشن نظریاتی اور میدانی راستے پر پوری آب و تاب کے ساتھ گامزن ہے۔

یاد رہے کہ اس سال مئی کے مہینے میں حماس نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ تحریک کے نئے صدر کے چناؤ کے لیے انتخابی عمل کا دوسرا مرحلہ منعقد کرے گی، کیونکہ پہلے مرحلے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا تھا، البتہ اس وقت امیدواروں کے نام صیغہ راز میں رکھے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اگست سنہ 2024ء میں تہران میں شہیدِ ملت اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد شہید یحییٰ السنوار نے سیاسی بیورو کی قیادت سنبھالی تھی اور وہ 16 اکتوبر 2024ء کو رفح کے تل السلطان میں قابض فوج کے ساتھ براہ راست مسلح لڑئی میں جامِ شہادت نوش کرنے تک اس فریضے کو احسن طریقے سے انجام دیتے رہے۔ ان کی شہادت کے بعد حماس نے محمد اسماعیل درویش کی سربراہی میں ایک عارضی لیڈرشپ کونسل تشکیل دی تھی جو اب اس نئے انتخابی عمل کے بعد مکمل ہو گئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan