دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی مظلوم ارضِ پاک پر مسلط کردہ نسل کشی کی ہولناک جنگ کے طوفانی اور لرزہ خیز پس منظر میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے افق پر جو بلند قامت شخصیات چمکی ہیں، ان میں مجاہدِ کبیر اور مدبر رہنما خلیل الحیہ کا اسمِ گرامی ستارہِ سحر کی مانند تاباں ہے۔ انہوں نے ایک ایسے انتہائی پُراشوب، سنگلاخ اور پیچیدہ دور میں سفارت کاری اور بالوسطہ مذاکرات کی آتشیں گھاٹیوں کو عبور کیا جب صہیونی جارحیت اپنے عروج پر تھی اور دنیا بھر کے ایوانوں سے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔
پیر کے روز اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے باضابطہ طور پر اس امر کا اعلان کیا ہے کہ مجاہد رہنما خلیل الحیہ کو شہید یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد ان کی جگہ تحریک کے سیاسی بیورو کا نیا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔
حماس کے تنظیمی ڈھانچے میں خلیل الحیہ کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ طویل عرصے سے تحریک کے مرکزی سیاسی بیورو کے رکن اور غزہ کی پٹی کے نائب صدر کے طور پر فراست اور شجاعت کے جوہر دکھاتے رہے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے غزہ میں جماعت کی قیادت کا بارانِ گراں اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ وہ ان یگانہ روزگار قائدین میں سے ہیں جنہوں نے مساجد کی محرابوں سے لے کر جامعات کے ایوانوں تک اور فکری دعوت سے لے کر میدانِ سیاست کی کٹھن راہوں تک ہر محاذ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ انہوں نے فلسطینی تحریکِ آزادی کے تاریخ ساز اور فیصلہ کن موڑ پر مذاکرات کی میز پر بھی اپنے فولادی عزم کا لوہا منوایا۔
جنگ کی تپتی بھٹی میں سفارت کاری کی قیادت
سات اکتوبر 2023ء کو ’طوفان الاقصی‘ کے تاریخی دھماکے اور اس کے بعد غزہ کی پٹی پر مسلط ہونے والی همہ گیر جنگ کے فوری بعد خلیل الحیہ حماس کے سیاسی اور سفارتی منظر نامے کے مرکزِ نگاہ بن گئے۔ انہوں نے فروری 2024ء میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ جانے والے حماس کے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی تاکہ جنگ بندی اور خونریزی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے بند دروازے کھولے جا سکیں۔ خبر رساں ایجنسیوں (بشمول رائٹرز) اور تحریک کے سرکاری بیانات کی تصدیق کے مطابق وہ مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے تمام بالواسطہ مذاکراتی دور میں وفد کے بلا شرکتِ غیرے قائد رہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے اسیران کے تبادلے کے انتہائی حسّاس اور پیچیدہ معاملے کو بھی غایت درجے کی حکمت سے نبھایا۔ انہوں نے متعدد بین الاقوامی انٹرویوز میں تحریک کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ کوئی بھی سمجھوتہ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جب تک وہ غزہ پر فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے اور محاصرے کے خاتمے کی ضمانت فراہم نہ کرے۔
ابتدائی ایام اور درس تدریس
خلیل اسماعیل الحیہ پانچ نومبر 1960ء کو غزہ کے آغوش میں پیدا ہوئے۔ ان کی آنکھیں ایک ایسے ماحول میں کھلیں جو 1967ء کی جنگ کے تلخ صدمات اور سیاسی زلزلے سے براہ راست دوچار تھا. صیہونی فوج کے وحشیانہ چھاپوں اور گھروں کی تلاشیوں کے مناظر نے ان کے طفولیت ہی میں سیاسی شعور کو بیدار کر دیا اور ان کے دل میں مزاحمت کا تخم بو دیا۔
انہوں نے اپنی ابتدائی و ثانوی تعلیم غزہ کے مکاتب سے حاصل کی، جس کے بعد وہ اسلامی یونیورسٹی کی طرف مائل ہوئے اور 1983ء میں اصولِ دین میں سندِ فراغت (بیچلر) حاصل کی۔ علم کی پیاس نے انہیں اردن کے دارالحکومت عمان کھینچا، جہاں انہوں نے 1986ء میں جامعۃ اردنیہ سے حدیثِ نبوی اور علومِ حدیث میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور پھر 1997ء میں سوڈان کی جامعۃ القرآن الكريم والعلوم الإسلاميہ سے اسی علمی بحرِ بے کنار میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کر کے علم و عمل کا ایک روشن باب رقم کیا۔
میدانِ عمل: تعلیمی، تنظیمی اور پارلیمانی سفر
خلیل الحیہ نے اپنے عملی سفر کا آغاز غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات (بطور ڈین) سے کیا۔ وہ تدریس کی سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے انتظامی مناصب تک پہنچے اور 2001ء میں طلبہ کے امور کے ڈین کےذمہ دار مقرر ہوئے۔ انہوں نے اساتذہ اور ملازمین کی یونین کی صدارت بھی سنبھالی اور فکری و رفاہی خدمات کے انمٹ نقش چھوڑے۔
سیاسی میدان میں قدم رکھتے ہوئے وہ 2006ء میں حماس سے وابستہ ’التغییر والإصلاح‘ (تبدیلی اور اصلاح) لسٹ کے ٹکٹ پر فلسطینی قانون ساز کونسل (پارلیمنٹ) کے رکن منتخب ہوئے اور ایوانِ قانون میں اپنے پارلیمانی بلاک کی قیادت کی۔ تحریک کے اندر انہوں نے عرب اور اسلامی تعلقات کے شعبے کی صدارت سمیت مرکزی میڈیا آفس جیسے حساس ترین محکموں کی ذمہ داریاں بھی حسنِ و خوبی سے نبھائیں۔
آزمائشوں کی بھٹی اور مزاحمت سے بھرپور زندگی
خلیل الحیہ نے اپنی جوانی کی دہلیز پر ہی 1980ء کی دہائی اوائل میں حماس کے مجدد اور بانی شہید شیخ احمد یاسین کی صحبت اختیار کی اور منظم اسلامی تحریک میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے اسلامی یونیورسٹی کے اندر ’ اسلامک بلاک‘ کے پلیٹ فارم سے اپنے جوہر دکھائے اور پھر 1987ء کی پہلی عظیم فلسطینی انتفاضہ کے ہنگامہ خیز دنوں میں عوامی اور تنظیمی صفوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
قابض صیہونی ایوانوں میں ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا بازار گرم رہا اور انہیں تین مرتبہ قیدو بند کی صعوبتوں سے گذرنا پڑا۔ ان میں سب سے طویل اسیری 1991ء کی تھی جب انہوں نے ظالمانہ سزاؤں کے تحت 3 سال جیل کی کال کوٹھریوں میں گذارے۔ فلسطینی روایات اور انسانی حقوق کی دستاویزات گواہ ہیں کہ انہیں ان ابتدائی ایام میں بھی وحشیانہ جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مگر ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی۔
قربانیوں کا لامتناہی سلسلہ
خلیل الحیہ کی حیاتِ مستعار آزمائشوں اور قربانیوں کا ایک مرقع ہے۔ انہیں جسمانی طور پر ختم کرنے کے لیے متعدد قاتلانہ حملے کیے گئے، جن میں سب سے دلخراش سانحہ 2007ء میں پیش آیا جب صیہونی طیاروں نے ان کے گھرکو نشان بنا کر خاک میں ملا دیا، جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کے 7 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد 2008ء میں ان کے چشم و چراغ حمزہ جو القسام بریگیڈز کے نڈر مجاہدین میں شامل تھے، ایک اسرائیلی فضائی حملے میں راہِ حق میں کام آئےّ۔
پھر 2014ء کی جنگ میں غزہ کے مشرقی علاقے میں واقع ان کے گھر پر گرائے جانے والے بموں نے ان کے دوسرے لختِ جگر اسامہ کو ان کے اہل خانہ کے دیگر افراد سمیت شہید کر دیا، جبکہ خلیل الحیہ خود اس ہولناک حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ ان کا مسکن ہر جنگ اور وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنتا رہا، جن میں اکتوبر 2023ء کی تباہ کن بمباری بھی شامل ہے۔
ستمبر 2025ء میں قطری دارالحکومت دوحہ میں تحریک کے مذاکراتی وفد کے دفتر پر بزدل صیہونیوں کے ایک بزدلانہ حملے میں ان کے عزیز فرزند ہمام نے بھی شہادت کا جامِ نوش کیا۔
پھر مئی 2026ء میں ان کے چوتھے فرزند عزام بھی غزہ شہر کے مشرقی محلے حی الدرج پر صیہونی درندوں کی طرف سے گرائے جانے والے بموں کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوئے اور بالآخر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملےّ۔
خلیل الحیہ نے جماعت کی حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متعدد سفارتی دورے بھی کیے، جن میں 2022ء میں دمشق کا سفر کرنے والے حماس کے وفد کی شمولیت بھی شامل ہے۔ نومبر 2023ء میں جنگی حالات میں حزب اللہ کی قیادت سے ملاقات اور باہم مشاورت کے لیے لبنان جانے والے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت بھی انہوں نے ہی فرمائی۔
