غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے جمعہ کی سہ پہر وسطی غزہ کی پٹی کے نصیرات کیمپ میں ایک خونی قتلِ عام کا ارتکاب کیا، جس میں ایک شہید کے جنازے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وحشیانہ حملے کے نتیجے میں 7 افراد شہید اور 20 زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض طیاروں نے نصیرات کیمپ میں ایک مسجد کے دروازے پر شہید طاہر عبد الواحد کے جنازے میں شریک افراد کو بمباری کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 7 افراد شہید اور 20 زخمی ہوئے۔
نصیرات میں العودہ میڈیکل کمپلیکس نے بتایا کہ “ہمیں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 7 شہداء کے جسد خاکی اور 22 زخمی موصول ہوئے، جو وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ کے ’ البلاطہ بازار‘ کے علاقے میں شہریوں کے ایک اجتماع پر کی گئی تھی۔”
اس سے قبل جمعہ کی صبح سے ہی غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں جو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایک خاتون سمیت 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو چکے تھے۔
طبی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس کے جنوب مغرب میں واقع ’الکنائس‘ کے علاقے میں قابض فوج کی فائرنگ سے 49 سالہ امانی ابراہیم ابو جزر شہید ہو گئیں۔
اسی طرح، قابض فوج کی بمباری کے نتیجے میں وسطی غزہ کے نصیرات کیمپ کے مغرب میں واقع ’ الجدید پناہ گزین کیمپ‘ میں سلیمان ابراہیم فرج اللہ شہید ہو گئے۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ وسطی غزہ کے نصیرات کیمپ کے مغرب میں واقع ’السوارحہ‘ کے علاقے پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں نوجوان طاہر عبد الواحد شہید اور 3 دیگر زخمی ہوئے۔
نیز شمالی غزہ کے قصبے بیت لاہیا میں ابو تمام اسکول کے قریب ایک کواڈ کاپٹر ڈرون سے بم پھینکے جانے کے نتیجے میں 52 سالہ انعام عبداللہ العطار شہید ہو گئے۔
غزہ شہر میں الشفاء ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہید اور ایک بچی سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ نامہ نگار نے بتایا کہ غزہ شہر کے وسط میں شارع الیرموک پر ’تاج مال‘ کے قریب ڈرون حملے سے ایک خاتون اور بچی زخمی ہوئیں۔
اسی تناظر میں قابض فوج کی گاڑیوں نے غزہ شہر کے مشرق میں محلہ التفاح کی جانب فائرنگ کی، جبکہ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے شہر کے مغرب میں شارع المؤسسات میں ایک گھر پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی جنگی کشتیوں نے غزہ کے ساحل کی جانب فائرنگ کی۔
شمالی غزہ میں جبالیہ کے علاقے الترنس کے قریب قابض فوج کی گاڑیاں شدید فائرنگ کے ساتھ اندر داخل ہو گئیں۔
وسطی غزہ میں قریہ المصدر اور دیر البلح کے مشرقی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں نے فائرنگ کی۔ خان یونس کے شمال مشرق میں قصبے القرارہ کے مشرقی علاقے میں ڈرون حملے اور فوجی گاڑیوں کی دراندازی کے ساتھ ساتھ شدید فائرنگ کی گئی۔ اسرائیلی ٹینکوں اور القرارہ کے مشرق میں موجود گاڑیوں نے حمد سٹی اور اس کے مضافات کو نشانہ بنایا، جبکہ قابض فوج نے شہر کے مشرق میں روشنی والے بم (فلیئر) بھی پھینکے۔ اسرائیلی جنگی کشتیوں نے خان یونس کے سمندر میں فائرنگ کی۔
جنوبی غزہ کے شہر رفح کے مغربی علاقوں پر اسرائیلی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔
غزہ کی پٹی میں وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں چار شہداء اور 28 زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں۔ وزارت نے تصدیق کی ہے کہ کئی لاشیں اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں جن تک مسلسل بمباری اور میدانی صورتحال کے انتہائی خطرناک ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ پا رہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک کل شہداء کی تعداد 1,127 اور زخمیوں کی تعداد 3,643 ہو گئی ہے، جبکہ 800 افراد کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک جاری مجموعی جارحیت میں شہداء کی تعداد 73 ہزار 250 اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار 751 تک پہنچ چکی ہے۔
