مقبوضہ فلسطین – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ فلسطین کے شہر لد کے مکین گذشتہ دس دنوں سے العمری الکبیر مسجد کے سامنے قائم خیمے میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس احتجاج کا مقصد 29 سالہ نوجوان سامی احمد جعصوص کے جسدِ خاکی کی بازیابی ہے، جنہیں قابض پولیس نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا اور اس کےبعد اس کا جسد خاکی بھی لے گئے تھے۔
قابض حکام نے دس دن قبل شہادت کے فوراً بعد ہی سامی جعصوص کے جسدِ خاکی کو تحویل میں لے لیا تھا۔ قابض انتظامیہ نے ابتدا میں ان پر چاقو بردار حملہ کرنے کا جھوٹا الزام لگایا، تاہم بعد ازاں اپنا بیان تبدیل کر دیا اور اب جسدِ خاکی کی حوالگی کے لیے خاندان پر کڑی شرائط عائد کر رکھی ہیں۔
قابض پولیس نے جسدِ خاکی حوالے کرنے کے لیے ایسی شرائط رکھی ہیں جنہیں ناممکن قرار دیا جا رہا ہے۔ ان شرائط میں نمازِ جنازہ پر پابندی، تدفین کے لیے براہ راست قبرستان میں لاش حوالے کرنا، اور شہید کے گھر پر تعزیت یا آخری دیدار کرنے پر مکمل پابندی شامل ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں مقبوضہ فلسطین (1948ء کے علاقوں) کے شہر لد میں قابض افواج کی گولیوں کا نشانہ بن کر ایک فلسطینی نوجوان شہید ہوا تھا۔ قابض حکام نے اس وقت بھی یہ جھوٹا بہانہ بنایا کہ نوجوان نے چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
عبرانی ریڈیو کے مطابق قابض پولیس نے لد شہر میں ایک فلسطینی نوجوان پر براہ راست گولیاں چلائیں اور دعویٰ کیا کہ اس نے پولیس اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
عبرانی ’چینل 14‘ کے مطابق، مبینہ طور پر مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے لد شہر میں ’یسام‘ (اسرائیلی اسپیشل یونٹ) کی ایک پولیس اہلکارہ کو چاقو مارنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد اسے براہ راست گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔
