Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

وزارتِ صحت کی وارننگ، طبی سامان کی کمی سے غزہ کا طبی نظام خطرے میں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارتِ صحت، غزہ نے آج جمعرات کے روز خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی پابندیوں کے باعث ٹیسٹنگ میٹریل اور طبی سامان کی شدید قلت کے نتیجے میں لیبارٹریز اور بلڈ بینکس مکمل طور پر بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

وزارت کی ڈائریکٹر برائے یونٹ لیبارٹریز اینڈ بلڈ بینکس، سحر غانم نے ایک پریس بیان میں کہا کہ لیبارٹریز اور بلڈ بینکس مکمل بندش کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لیبارٹری ٹیسٹ کے مواد میں 87 فیصد اور مریضوں و زخمیوں کے تشخیصی ٹیسٹ کے لیے ضروری بنیادی طبی سامان میں 74 فیصد قلت ہو چکی ہے۔

سحر غانم نے واضح کیا کہ بحران لیبارٹری کے بنیادی کام کے تمام شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’بلڈ گیس‘ کے ٹیسٹ مکمل طور پر رک چکے ہیں، جبکہ مکمل خون کی جانچ (سی بی سی) کے ٹیسٹ بھی چند دنوں کے اندر بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف طبی شعبوں کے لیے ضروری کیمیائی ٹیسٹ بھی تعطل کا شکار ہونے والے ہیں، کیونکہ سیمپل لینے والی ٹیوبوں اور بنیادی آلات کی شدید قلت ہے۔ اس کے علاوہ پرانے ہو جانے والے لیبارٹری آلات بار بار خراب ہو رہے ہیں اور بلڈ یونٹس کی جانچ کے لیے درکار مواد بھی موجود نہیں ہے۔

سحر غانم نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ لیبارٹریز اور بلڈ بینکس کی فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر طبی سپلائی فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں قلت کا جاری رہنا لیبارٹری خدمات کی بندش کا سبب بنے گا اور غزہ کی پٹی میں صحت اور انسانی حالات کو مزید ابتر کر دے گا۔

یاد رہے کہ وزارتِ صحت نے جون کے وسط میں بھی لیبارٹریز اور بلڈ بینکس کو درپیش ’تباہ کن‘ چیلنجز کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

غزہ میں میڈیکل ریلیف سوسائٹی نے بھی پہلے نشاندہی کی تھی کہ آلات چلانے کے لیے درکار ایسڈ اور کیمیائی مواد ختم ہونے کے باعث لیبارٹریز بند ہونے کے قریب ہیں۔ سوسائٹی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ذریعے پہنچنے والی طبی امداد خستہ حال صحت کے نظام کی ضروریات کا معمولی سا حصہ بھی پورا نہیں کرتی۔

سوسائٹی نے واضح کیا کہ غزہ میں طبی خدمات کا نقشہ بری طرح متاثر ہوا ہے، کیونکہ 38 میں سے 26 ہسپتال براہ راست تباہی یا ایندھن کی کمی کے باعث بند ہو چکے ہیں۔ انہوں نے غزہ کے صحت کے نظام کو ایک ایسی ’آفت‘ قرار دیا جو بیان سے باہر ہے۔

قابض اسرائیلی فوج غزہ کے صحت کے شعبے کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ غزہ کے میڈیا آفس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، نسل کشی کی اس جنگ کے دوران 38 میں سے 34 ہسپتال تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ صرف چار ہسپتال محدود صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور وہ بھی شدید ادویات اور طبی آلات کی کمی کا شکار ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan