خان یونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی فوج نے غزہ کی پٹی میں توپ خانے سے گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح خان یونس کیمپ کے علاقے الحاوز میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
ایک اور مقامی ذریعے کا کہنا ہے کہ قابض فوج کے کواڈ کاپٹر ڈرون اور عسکری گاڑیوں نے غزہ شہر کے مشرقی محلے حی التفاح کی جانب شدید فائرنگ کی، جس کے ساتھ ساتھ توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔ اس دوران قابض فوج نے شہر کے مشرقی حصے میں عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
قابض فوج نے شدید فائرنگ کے درمیان حی التفاح میں نام نہاد ’یلو زون‘ کے رقبے کو وسیع کر دیا ہے، جس کے باعث وہاں موجود متعدد خاندان محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق قابض فوج کے ٹینکوں نے پٹی کے وسط میں واقع البریج کیمپ کے شمال مشرق میں شدید فائرنگ کی، جبکہ اسرائیلی بحریہ کی کشتیوں نے خان یونس کے ساحل کی جانب گولیاں برسائیں۔
قابض اسرائیل کی افواج غزہ کی پٹی میں فضائی اور توپ خانے سے بمباری کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ یہ کارروائیاں پناہ گزینوں کے مراکز، نام نہاد ’یلو لائن‘ کے اندر تباہ کاریوں اور اشیاء خوردونوش، امدادی سامان اور سفر پر عائد پابندیوں کے ساتھ جاری ہیں۔
وزارت صحت فلسطین کے اعداد و شمار کے مطابق، دس اکتوبر سنہ 2025ء کو شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 1070 ہو چکی ہے، جبکہ 3474 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 799 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ2023ء سے جاری جارحیت کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 73104 فلسطینی شہید اور 173586 زخمی ہو چکے ہیں، جو کہ پٹی پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
