دمشق – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے منگل کے روز دارالحکومت دمشق میں ہونے والے دو بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جماعت نے اس بات پر زور دیا کہ شام کے امن اور استحکام کو نشانہ بنانا ایک کھلا حملہ ہے، جو خطے کی سلامتی کو کمزور کرنے اور وہاں افراتفری پھیلانے والے مشکوک ایجنڈوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
حماس نے اپنے ایک پریس بیان میں ان ”مجرمانہ اور بزدلانہ کارروائیوں“ کے خلاف شام کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
ادھر دمشق میں وزارت سیاحت کی عمارت کے قریب ہونے والے ان دو دھماکوں کے نتیجے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ علاقہ فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کی رہائش گاہ کے قریب واقع ہے، جو ان دنوں شام کے دورے پر ہیں، اور یہ کسی بھی بڑے مغربی ملک کے سربراہ کا پہلا دورہ ہے۔
شامی خبر رساں ایجنسی (سانا) نے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے دورانِ کارروائی مذکورہ علاقے میں دو دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگایا تھا۔ ماہر یونٹس نے انہیں ناکارہ بنانے کی کوشش کی، تاہم بم تلف کرنے کی کارروائی کے دوران ہی دھماکے ہو گئے۔
