Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

علی الطاہر کی پہاڑیوں کی جنگ اسرائیل کیلئے مہنگی ثابت ہوگی: عسکری ماہر

جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی لبنان میں حالیہ اسرائیلی کشیدگی نے ’علی الطاہر‘ کی پہاڑیوں کو ایک بار پھر عسکری منظرنامے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ قابض فوج نے اس علاقے پر اپنے فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جسے مبصرین زمینی کارروائی کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ اسرائیل میدانی سطح پر ایک نئی مساوات مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں عسکری ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ان تزویراتی (اسٹریٹیجک) پہاڑیوں میں کسی بھی قسم کی پیش قدمی، ان کی عسکری اہمیت اور دفاعی نوعیت کے پیشِ نظر حزب اللہ کے ساتھ ایک وسیع تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔

زمینی کارروائی سے قبل شدید بمباری

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق فوج نے علی الطاہر کی پہاڑیوں کے علاقے پر حملہ کیا ہے، جبکہ گلیلِ اعلیٰ کی علاقائی کونسل نے بستیوں کے رہائشیوں کو مطلع کیا ہے کہ انہیں جنوبی لبنان میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں گی۔

عسکری اور تزویراتی ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل خلیل الجمیل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں کی نوعیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ محض محدود چھاپے نہیں ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی فوج عام طور پر کسی بھی زمینی حرکت سے پہلے، آپریشن کے علاقے کو تنہا کرنے اور جنگجوؤں یا رسد کی فراہمی روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر فائرنگ (تیاری) کا سہارا لیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی الطاہر کی پہاڑیوں کے ارد گرد کے دیہاتوں کو نشانہ بنانے والی بمباری اسی فریم ورک کا حصہ ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رات کے وقت جو اسرائیل کی زمینی کارروائیوں کا معمول کا وقت ہے، نئی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے یہ حملے جاری رہیں گے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ فضائی حملوں کا حجم محدود کارروائی کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتا، کیونکہ ایسے اہداف ڈرون طیاروں سے بھی حاصل کیے جا سکتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ پہاڑیوں کے کچھ حصوں میں زمینی دراندازی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ علی الطاہر کی پہاڑیاں تقریباً تین کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں، اور ابتدائی طور پر کسی بھی دراندازی کو ان کے مخصوص حصوں تک محدود رکھا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ نقل و حرکت اسرائیلی فوج کے عسکری طریقہ کار کے عین مطابق ہے۔

حزب اللہ کی تیاری اور میدانی پیچیدگیاں

الجمیل نے زور دیا کہ حزب اللہ اس علاقے کے دفاع کے لیے تیار رہے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ’اقلیم التفاح‘ اور ملحقہ علاقوں میں تعینات فائر سپورٹ یونٹس اسرائیلی فوج کو ان پہاڑیوں کے اندر پاؤں جمانے سے روکنے کے لیے بھرپور کارروائیاں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ماضی میں بھی اس علاقے میں آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی، لیکن جغرافیائی مشکلات اور دفاعی تیاری کی وجہ سے اسے سخت میدانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس سے کوئی بھی نئی کوشش زیادہ پیچیدہ اور مہنگی ثابت ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ علی الطاہر کی پہاڑیاں جنوبی لبنان اور النبطیہ کے خطے کے لیے دفاع کی اہم ترین لائن ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کشیدگی براہ راست زمینی کارروائی میں تبدیل ہوئی تو شدید جھڑپیں ہوں گی۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ علاقے میں پھیلے ہوئے سرنگوں کے جال کے اندر کسی بھی قسم کی پیش قدمی اسرائیلی فوج کو مشکل جنگی حالات سے دوچار کرے گی، جب تک کہ حزب اللہ کا دفاعی نظام گر نہ جائے، جس کے کوئی میدانی اشارے اب تک موجود نہیں ہیں۔

اگرچہ اسرائیل کے پاس فوجی صلاحیتیں موجود ہیں جو اسے فیصلہ کرنے کی صورت میں پہاڑیوں تک پہنچنے کے قابل بناتی ہیں، تاہم الجمیل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مقصد حاصل کرنے کی عسکری اور انسانی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔

’نگلنے‘ کی پالیسی اور تصادم کے وسیع امکانات

الجمیل کے نزدیک اسرائیل ایک ہی بار میں بڑا آپریشن کرنے کے بجائے فضائی حملوں، دباؤ اور محدود زمینی پیش قدمی کو ملا کر پہاڑیوں کو بتدریج ”نگلنے“ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ علی الطاہر کی پہاڑیوں پر قابض ہونے والا فریق بڑی میدانی برتری حاصل کر لیتا ہے، کیونکہ یہ جنوبی لبنان اور النبطیہ کے وسیع علاقوں پر نظر رکھتی ہیں جو اسے عسکری کارروائیوں کے انتظام میں ایک کلیدی مقام بناتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ان پہاڑیوں کو ان علاقوں میں شمار کرتا ہے جن پر وہ ماضی میں قبضہ کر چکا تھا، اور اس کا ماننا ہے کہ یہاں کوئی بھی عسکری کارروائی، اس کے نقطہ نظر سے، موجودہ انتظامات سے متصادم نہیں ہے، حالانکہ عملی طور پر یہاں کنٹرول کبھی حاصل نہیں ہو سکا۔

ان کا خیال ہے کہ کوئی بھی زمینی دراندازی حزب اللہ کو اسرائیلی بستیوں پر میزائلوں کے ذریعے جوابی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے پر اکسائے گی، جس سے اندرونی محاذ پر دباؤ بڑھے گا اور ایک نئی ڈیٹرنس (خوف) کی مساوات مسلط ہوگی، جو پورے جنوبی محاذ کو دوبارہ آگ میں جھونک سکتی ہے۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں دیکھی جا رہی ہے جب لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ دو مارچ سنہ 2026ء سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 4303 اور زخمیوں کی تعداد 12 ہزار 203 تک پہنچ گئی ہے، اور سرحد پر امن قائم کرنے کی کوششوں کے باوجود عسکری کشیدگی بدستور جاری ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan