دمشق – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک کیفے کو نشانہ بنانے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
ایک اخباری بیان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے اور پرامن لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ہر اعتبار سے ایک قابل مذمت جرم قرار دیا، اور کہا کہ یہ اقدام صرف افراتفری اور بدامنی پھیلانے والے منصوبوں کے سوا کسی مقصد کو پورا نہیں کرتا۔
حماس نے متاثرین کے لواحقین اور جمہوریہ عربیہ شام کی قیادت، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ حماس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جاں بحق ہونے والوں کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے، زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
حماس نے اس جرم کے خلاف شام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ شامی عوام اس مشکل گھڑی سے نکلنے اور اپنے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ جمعرات کو دمشق کے وسطی علاقے میں واقع شارع النصر میں عدلیہ کے محل (قصر العدلی) کے قریب ایک کیفے کے اندر نصب بم کے دھماکے میں کم از کم نو افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہو گئے تھے۔
اس دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے، جو کہ ایک سال قبل الدویلعہ محلے میں ایک چرچ کو نشانہ بنانے والے خودکش حملے، جس میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے بعد دمشق میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقعہ ہے۔
