غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں مزاحمتی سکیورٹی کے ایک رہنما نے اعلان کیا ہے کہ مخبر (م.م) کو سزائے موت دینا ایک وسیع پیمانے پر جاری سکیورٹی مہم کا پیش خیمہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ آنے والے دنوں میں قابض اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے قتل اور نسل کشی کی جرائم میں ملوث دیگر مخبروں کو بھی سزائے موت دی جائے گی۔
اس رہنما نے آج بروز جمعرات ’حارس‘ پلیٹ فارم کو دیے گئے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ مزاحمتی سکیورٹی آنے والے دنوں میں ایسی ویڈیو ریکارڈنگ جاری کرے گی جن میں مخبر (م.م) کے اعترافی بیانات اور فلسطینی عوام کے خلاف قتل کے جرائم میں اس کی شرکت کو دستاویزی شکل میں دکھایا جائے گا۔
انہوں نے ان لوگوں کو، جو قابض اسرائیلی انٹیلی جنس کے بلیک میلنگ کا شکار ہیں، دعوت دی کہ وہ مخبر (م.م) کے انجام پر غور کریں، اور اس شرمندگی کے بارے میں سوچیں جو اس نے اپنے خاندان اور بچوں کے لیے پیدا کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی خاندانوں کا اپنے مخبری کے الزام میں ملوث بیٹوں کے حوالے سے رویہ سخت اور قابل ستائش رہا ہے۔ انہوں نے ان خاندانوں پر غداری کا لیبل لگانے سے گریز کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام فلسطینی خاندان اور قبائل مخبروں اور قابض دشمن کی آگ میں جل چکے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ مزاحمتی سکیورٹی نے مخبروں کو وقت گزرنے سے پہلے خود کو حوالے کرنے کے لیے ایک محدود مہلت دی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ جو بھی توبہ کرنے میں پہل کرے گا، مزاحمت اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی۔
