Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں نسل کشی کے 1000 دن مکمل، صہیونی مظالم کی المناک داستان

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں حکومتی میڈیا آفس نے جارحیت کے ایک ہزار دن مکمل ہونے کے موقع پر ایک جامع شماریاتی اپ ڈیٹ جاری کی ہے، جو قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کے بھیانک اثرات کی دستاویزی شکل ہے۔ یہ انسانی صورتحال گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ سنگین ہے، جس میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ بھوک اور جبری نقل مکانی کی پالیسیوں کا کھل کر استعمال کیا گیا ہے۔

آبادیاتی بحران اور وسیع پیمانے پر تباہی

اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں 24 لاکھ 40 ہزار سے زائد فلسطینی نسل کشی، بھوک اور نسلی تطہیر کا سامنا کر رہے ہیں۔ پٹی کا 90 فیصد سے زائد حصہ مکمل تباہ ہو چکا ہے، جبکہ قابض فوج نے چھاپوں، بمباری اور نقل مکانی کے ذریعے 80 فیصد سے زیادہ اراضی پر عسکری کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔ المواصی، جسے انسانی علاقہ قرار دے کر تشہیر کی گئی، وہاں بھی 241 بار بمباری کی گئی، جبکہ قابض دشمن نے پٹی پر 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا ہے۔

شہداء اور لاپتہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد

ہسپتالوں میں پہنچنے والے شہداء کی تعداد 73 ہزار 66 ہو گئی ہے، اس کے علاوہ 9 ہزار 500 افراد لاپتہ ہیں جن کا انجام نامعلوم ہے یا وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ کل متاثرین میں 55 فیصد سے زائد بچے، خواتین اور بزرگ ہیں، جن میں 21 ہزار 500 سے زائد بچے اور 12 ہزار 500 خواتین شامل ہیں۔ جنگ کے دوران ایک ہزار 22 بچے ایک سال سے کم عمر کے شہید ہوئے، جبکہ 520 شیر خوار بچے ایسے تھے جو جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور شہید ہو گئے۔

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ قابض دشمن نے براہِ راست انسانی عملے کو نشانہ بنایا، جس میں ایک ہزار 700 طبی عملے کے ارکان، 145 شہری دفاع کے کارکن، 262 صحافی اور بلدیاتی و امدادی شعبے کے سینکڑوں ملازمین شامل ہیں۔ 39 ہزار سے زائد خاندانوں کو قتل عام کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 2 ہزار 700 خاندان ایسے ہیں جنہیں سول رجسٹر سے مکمل طور پر مٹا دیا گیا ہے۔ دیگر اموات میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث 460، بے گھر کیمپوں میں سردی سے 28، جبکہ گردوں کے مریضوں کی 43 فیصد اموات صحت کی دیکھ بھال کی کمی کے باعث ہوئیں۔

تباہ کن زخم اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال

زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار 514 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 19 ہزار کو طویل مدتی بحالی کی ضرورت ہے۔ 5 ہزار 400 سے زائد افراد کے اعضاء کٹ چکے ہیں، ایک ہزار 500 مفلوج ہو چکے ہیں اور ایک ہزار 200 بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ نقل مکانی کے باعث 21 لاکھ سے زائد افراد متعدی بیماریوں کا شکار ہوئے، جبکہ ہیپاٹائٹس کے 71 ہزار 338 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ سماجی بحرانوں میں 58 ہزار 800 بچے یتیم اور 26 ہزار 370 خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔

صحت کے شعبے کا انہدام اور منظم نشانہ بازی

38 ہسپتال اور 96 مراکز صحت بمباری یا تباہی کے بعد سروس سے خارج ہو چکے ہیں۔ 197 ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر 788 حملے کیے گئے۔ قابض دشمن نے شہری دفاع کے 16 مراکز اور 84 ریسکیو و فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو تباہ کیا۔

تعلیم کا جنازہ اور ایک نسل کا نقصان

نسل کشی کی جنگ نے غزہ کے تمام اسکولوں کو مادی نقصان پہنچایا ہے، جن میں 81 فیصد کو دوبارہ تعمیر یا بنیادی بحالی کی ضرورت ہے۔ 17 اعلیٰ تعلیمی ادارے تباہ کر دیے گئے، 20 ہزار سے زائد طلبا اور 830 اساتذہ شہید کر دیے گئے، جبکہ 6 لاکھ 20 ہزار اسکول کے طلبا اور 90 ہزار یونیورسٹی کے طلبا تعلیم سے محروم ہیں۔

عبادت گاہوں اور قبرستانوں کی تباہی

قابض دشمن نے ایک ہزار 47 مساجد کو مکمل اور 210 کو جزوی طور پر تباہ کیا، جبکہ گرجا گھروں اور قبرستانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ 60 میں سے 40 قبرستان تباہ کیے گئے، 2 ہزار 450 سے زائد لاشیں چوری کی گئیں، اور ہسپتالوں کے اندر اجتماعی قبریں قائم کی گئیں۔

اجتماعی نقل مکانی اور رہائش کا بحران

حملوں کے باعث 20 لاکھ سے زائد فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ 5 لاکھ 10 ہزار رہائشی یونٹ متاثر ہوئے، جن میں سے 3 لاکھ 35 ہزار مکمل تباہ ہو گئے۔ 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد خاندانوں کو رہائش کی ضرورت ہے، جبکہ ایک لاکھ 32 ہزار خیمے بوسیدہ اور رہائش کے قابل نہیں رہے۔

بھوک کی پالیسی اور امداد پر پابندی

سرحدیں 650 دنوں سے زائد بند ہیں، 3 لاکھ 90 ہزار امدادی ٹرکوں کو داخل ہونے سے روکا گیا، اور خوراک کی تقسیم کے مراکز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ 6 لاکھ 50 ہزار بچے غذائی قلت کے باعث موت کے دہانے پر ہیں، جن میں 40 ہزار شیر خوار شامل ہیں۔ 22 ہزار سے زائد مریضوں کو علاج کے لیے باہر جانے سے روکا جا رہا ہے۔

بنیادی ڈھانچہ اور معاشی تباہی

قابض دشمن نے سینکڑوں کنویں، پانی، بجلی اور سیوریج کے نیٹ ورک، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں، سرکاری عمارتیں، کھیلوں کے مراکز اور آثار قدیمہ کے مقامات تباہ کر دیے۔ زرعی پیداوار میں 87 فیصد کمی آئی ہے۔ ابتدائی براہِ راست نقصانات 80 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو غزہ کی پٹی میں زندگی کے ہر پہلو کو پہنچنے والی معاشی تباہی کا عکاس ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan