Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے مستقل قیام کی جانب اہم پیش رفت

تل ابیب (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں نیا اور مستقل سفارت خانہ تعمیر کرنے کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ تقریب کے دوران اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈئین سار اور اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل امریکی سفارت خانے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے معاہدے کو حاضرین کے سامنے پیش کیا۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اسرائیلی وزارتِ خارجہ میں منعقدہ دستخطی تقریب کے دوران کہا کہ امریکا یروشلم کو یہودی عوام کا ازلی، مقامی اور ہمیشہ کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا یروشلم کی سرزمین پر اپنا پرچم نصب کرے گا اور یہاں ایک نیا، مستقل سفارتی کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا جو اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان ناقابلِ شکست اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔اعلامیے کے مطابق امریکی سفارت خانہ جنوبی مقبوضہ بیت المقدس میں واقع ایلنبی کمپائونڈ میں تعمیر کیا جائے گا۔دوسری جانب اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ نے سفارت خانے کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے زیادہ متنازع شہروں میں سے ایک ہے، جہاں فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکا کے سفارتی مشن کو تل ابیب سے منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan