میڈرڈ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہسپانوی وزیر صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے طبی انخلاء کے چھٹے مرحلے کے تحت 20 فلسطینی بچے اپنے خاندانوں کے ہمراہ اسپین پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ہسپانوی ہسپتالوں میں اپنا علاج کروائیں گے۔
وزیر صحت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ بچے ”زندگی کی درندگی کو پیچھے چھوڑ کر یہاں پہنچے ہیں تاکہ وہ نگہداشت حاصل کر سکیں جس کی انہیں ضرورت ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ بچے خوف کے ساتھ ساتھ امید بھی لیے ہوئے آئے ہیں“ اور ان بچوں کے استقبال کو انہوں نے ”قومی فخر کا باعث“ قرار دیا۔
دوسری جانب ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو ان ہولناکیوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے جو غزہ کی پٹی میں دیکھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ملک اس وقت 100 فلسطینیوں کی میزبانی کر رہا ہے، جن میں 20 بچے اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں جو زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی دیکھ بھال کرنا ایک اخلاقی فریضہ ہے، ساتھ ہی ساتھ اپنے وطن بحفاظت واپسی کے ان کے حق کا دفاع کرنا بھی ضروری ہے۔
یہ اقدام غزہ کی پٹی پر جنگ کے خلاف ہسپانوی موقف کے سیاق و سباق میں سامنے آیا ہے۔ میڈرڈ نے اس سلسلے میں کئی سفارتی اور سیاسی اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری کے معاہدے کو معطل کرنے کا مطالبہ، تل ابیب سے اپنی سفیر کو واپس بلانا، اسرائیلی فوج سے وابستہ سرگرمیوں پر پابندی لگانا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کا احتساب کرنے کی اپیل شامل ہے۔
مئی سنہ 2024ء میں اسپین کی جانب سے باضابطہ طور پر ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کے بعد سے میڈرڈ اور تل ابیب کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان سفارتی اقدامات کا تبادلہ ہوا اور اختلافات میں شدت آئی ہے۔
