غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سڑکیں اب صرف شہروں اور کیمپوں کو جوڑنے والے راستے نہیں رہے، بلکہ یہ کھلے خطرناک میدانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایک فضائی حملے سے بننے والے گڑھے، ایک خستہ حال گاڑی کے پیچھے بندھی ابتدائی قسم کی ٹرالی اور روشنیوں اور اشاروں سے محروم راستے.. غزہ کے باشندے اب موت کی ایک اور قسم کا سامنا کر رہے ہیں؛ ایک ایسی خاموش موت جو گولہ باری سے نہیں، بلکہ اس نسل کشی کی جنگ سے پیدا ہوئی ہے جس نے زندگی کے ہر پہلو کو تباہ کر دیا ہے، یہاں تک کہ روزمرہ کی نقل و حرکت بھی اب محفوظ نہیں رہی۔
قابض اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کے ساتھ ٹریفک حادثات کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پہلے سے ہی تباہ حال ہیلتھ سیکٹر پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے اور ایسی جانیں لے رہا ہے جو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سواری کی تلاش میں تھیں۔
ایک معمول کا سفر.. جو تباہی پر ختم ہوا
نوجوان محمد جلال کو اندازہ نہیں تھا کہ غزہ شہر سے وسطی علاقے تک کا سفر ان کی زندگی کے سب سے تلخ لمحات میں سے ایک ثابت ہوگا۔ وہ بتاتے ہیں: ”مجھے بس اتنا یاد ہے کہ ٹرالی اچانک مڑی اور الٹ گئی۔ ہم سب اسفالٹ پر گر گئے، چیخ و پکار سے جگہ گونج رہی تھی، بچے، خواتین اور مرد خون میں لت پت تھے اور ہر کوئی دوسرے کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا“۔
یہ حادثہ ساحلی شاہراہ ’الرشید‘ پر ’نتساریم‘ کے قریب پیش آیا لیکن المیہ الٹنے کے لمحے پر ختم نہیں ہوا، کیونکہ زخمی علاقے میں ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً ایک گھنٹہ امداد کے منتظر رہے، جب تک کہ گزرنے والی گاڑیوں نے انہیں ہسپتال پہنچانے کی ذمہ داری نہیں اٹھائی۔
جنگ نے سڑکیں تباہ کیں.. اور ٹریفک کے اصول بدل دیے
قابض اسرائیل کی جارحیت کے اثرات عمارتوں اور گھروں تک محدود نہیں رہے، بلکہ سڑکوں کے نیٹ ورک تک پھیل گئے ہیں جو وسیع تباہی کا شکار ہوا ہے۔ ٹریفک اشارے غائب ہو چکے ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اور گڑھے اور دراڑیں ڈرائیوروں اور راہگیروں کی زندگی کے لیے روزانہ کا خطرہ بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) تصدیق کرتی ہے کہ جنگ کے آغاز سے غزہ میں ٹریفک حادثات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ بنیادی ڈھانچے کا زبردست انہدام، خستہ حال گاڑیوں کا استعمال، اور خطرناک علاقوں سے گزرنے کے لیے بعض ڈرائیوروں کا تیز رفتاری کا سہارا لینا ہے۔
”العقالات“.. موت کو دعوت دینے والی مجبوری کی سواری
ایندھن کی شدید کمی اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کی تباہی کے ساتھ مقامی طور پر ”العقالات“ (دیسی ساختہ ٹرالی) کے نام سے معروف ابتدائی قسم کی گاڑیاں عام ہو گئی ہیں، جو شہریوں کے لیے نقل و حمل کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ بن چکی ہیں۔
لیکن یہ گاڑیاں جو کاروں یا موٹر سائیکلوں کے ذریعے کھینچی جاتی ہیں۔ حفاظت کے بنیادی معیارات سے محروم ہیں۔ اکثر ایک گڑھے یا اونچائی پر چڑھتے ہی یہ الٹ جاتی ہیں یا گاڑی سے الگ ہو جاتی ہیں، خاص طور پر اس اضافی بوجھ کے ساتھ جو اب پٹی کی سڑکوں پر ایک عام منظر ہے۔
جنگ کے بوجھ تلے ڈھتا ہوا ٹرانسپورٹ سیکٹر
وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق تقریباً 70 فیصد گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ 80 فیصد سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے، کرایوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور شہریوں کو غیر محفوظ سواریوں کے استعمال پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
اسی وقت پولیس ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنانے اور بڑی تعداد میں اہلکاروں کی شہادت کے بعد ٹریفک پولیس کی موجودگی کم ہو گئی ہے، جس نے نگرانی کو کمزور کر دیا ہے اور غیر قانونی ڈرائیونگ، بغیر لائسنس والی گاڑیاں اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کو پھیلنے کا موقع دیا ہے۔
ڈرائیور خالد ابو وردہ غزہ میں ڈرائیونگ کو بقا کا روزانہ امتحان قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”خطرہ اب صرف گاڑیوں سے نہیں، بلکہ خود سڑک سے ہے۔ ہر جگہ گڑھے ہیں، شدید رش ہے، راہگیر اچانک سڑک پار کر لیتے ہیں، اور گاڑی پر کنٹرول اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔“
اندھیرا سڑکوں کو مزید خطرناک بناتا ہے
رات کے وقت خطرات دگنے ہو جاتے ہیں، کیونکہ قابض اسرائیل نے روشنی کے کھمبوں کو تباہ کر دیا ہے اور بجلی کی بندش نے غزہ کی زیادہ تر سڑکوں کو اندھیرے میں ڈبو دیا ہے۔
ضرورت اور استحصال کے درمیان
شہری احمد بکیر کا ماننا ہے کہ مسئلہ کا ایک حصہ ان ڈرائیوروں کی وجہ سے ہے جو لوگوں کی مجبوری کا استحصال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”کبھی کبھی گاڑی ہر طرف سے انسانوں سے لدی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ گاڑی کے اندر سواریاں، ٹرالی میں دوسرے، اور کچھ تو لوہے کے ڈھانچے یا گاڑی کے ڈبے کے اوپر بیٹھے ہوتے ہیں، یہ سب صرف زیادہ سے زیادہ مسافروں کو لے جانے کے لیے ہے۔“
غزہ میں اب گولے ہی لوگوں کی جان کے دشمن نہیں رہے، بلکہ وہ راستہ بھی جو ایک شہری اپنے کام پر جانے، رشتہ داروں سے ملنے، یا اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اختیار کرتا ہے، ایک ایسا راستہ بن سکتا ہے جہاں سے واپسی کی کوئی امید نہ ہو۔ نسل کشی کی جنگ کے تسلسل کے ساتھ، ٹریفک حادثات مزید جانیں لے رہے ہیں، جو غزہ کے باشندوں کی مشکلات میں ایک نیا باب جوڑ رہے ہیں۔
