غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں مسماری، بمباری اور فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح خان یونس شہر کے شمال میں واقع ’حی الامل‘ سے ایک شہید کی باقیات نکالی گئی ہیں، جنہیں خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا ہے۔
قابض فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس شہر کے جنوب میں ’قیزان رشوان‘ کے علاقے میں اپنے کنٹرول والے علاقوں کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، قابض فوج نے آج بدھ کی فجر کے وقت قیزان رشوان کے علاقے میں ’یلو لائن‘ کو مزید وسیع کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران انہوں نے کنکریٹ کے بلاکس ’ہیپی سٹی‘ سڑک کے وسط تک منتقل کر دیے، جو کہ جمال عبد الناصر اور السکۃ سڑکوں کے مغرب میں واقع ہے۔ انہوں نے السکۃ اور جمال عبد الناصر کے مغرب میں تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ’حوش مسعود‘ کے قریب بھی بلاکس نصب کر دیے ہیں۔
ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ قابض فوج نے خان یونس شہر کے شمال مشرق میں مسماری کی ایک کارروائی کی اور شہر کے جنوب میں قیزان رشوان کے علاقے میں بے گھر افراد کے خیموں اور شہریوں کے مکانات پر فائرنگ کی۔
قابض اسرائیلی فورسز نے رفح شہر کے مغرب میں بھی روشنی والے بم گرائے۔
ادھر قابض فوج کے توپ خانے نے غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع البریج پناہ گزین کیمپ کے شمال مشرق میں گولہ باری کی۔
قابض اسرائیلی فورسز فضائی اور توپ خانے سے بمباری کر کے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا نشانہ پناہ گزینوں کے ٹھکانے بن رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ’یلو لائن‘ کے اندر مسماری اور تباہی پھیلانے کا عمل جاری ہے، جبکہ اشیاء، امداد اور نقل و حرکت پر پابندیاں بھی بدستور برقرار ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، دس اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 1045 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 3380 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 786 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی جارحیت کے بعد سے کل ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 73,058 شہداء اور 173,488 زخمیوں تک پہنچ چکی ہے، جو کہ پٹی پر جاری قابض اسرائیل کی جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کی عکاس ہے۔
