مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں مزاحمتی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس دوران قابض اسرائیلی فورسز اور یہودی آباد کاروں کے خلاف 19 مزاحمتی کارروائیوں کی اطلاع ملی ہے، جس کے نتیجے میں تین یہودی آباد کار زخمی ہوئے۔ یہ پیشرفت فلسطینیوں پر قابض اسرائیل اور یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے مظالم کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
فلسطین کے معلوماتی مرکز ’معطٰی‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ مزاحمتی کارروائیاں 12 مقامات پر قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں پر مشتمل تھیں جس میں پتھراؤ بھی شامل ہے، جبکہ یہودی آباد کاروں کے پانچ حملوں کو پسپا کیا گیا، اس کے علاوہ البیرہ اور نابلس شہروں میں دو مظاہرے کیے گئے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے ضلع میں الرام اور حزما قصبوں میں جھڑپیں ہوئیں، جہاں مقامی لوگوں نے حزما پر یہودی آباد کاروں کے حملے کا مقابلہ کیا۔
ضلع رام اللہ میں المغیر، البیرہ، دیر ابو مشعل اور بیتونیا قصبوں میں قابض فوج کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جبکہ المغیر میں مقامی لوگوں نے یہودی آباد کاروں کے حملے کو ناکام بنایا اور البیرہ شہر میں مظاہرہ کیا گیا۔
نابلس ضلع میں بیت فوریک، عورتا اور الحریق کے علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں، جن میں عورتا اور الحریق میں یہودی آباد کاروں کے حملوں کو پسپا کرنا شامل تھا، اس کے علاوہ نابلس شہر میں بھی مظاہرہ کیا گیا۔
کلقیلیہ ضلع کے النفار محلے میں قابض فوج کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جبکہ بیت لحم کے مشرق میں واقع عرب الرشائدہ کے علاقے میں مقامی لوگوں نے یہودی آباد کاروں کے حملے کا مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں تین یہودی آباد کار زخمی ہوئے۔
عرب الرشائدہ کے واقعات حالیہ عرصے کی نمایاں ترین مزاحمتی کارروائیوں میں شامل ہیں، جہاں نوجوانوں نے ایک یہودی آباد کار حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے تین آباد کاروں کو زخمی کر دیا۔ اس کے علاوہ نابلس ضلع کے عورتا اور الحریق دیہاتوں میں یہودی آباد کاروں کے حملوں کا مقابلہ کرنا بھی اہم مزاحمتی واقعات کا حصہ رہا۔
