غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کوآرڈینیشن کے تحت ہلالِ احمر فلسطین کی جانب سے جاری طبی انخلاء کے آپریشن کے فریم ورک کے تحت منگل کے روز مریضوں اور ان کے تیمارداروں کا ایک نیا گروپ رفح زمینی گزرگاہ کے ذریعے غزہ کی پٹی سے روانہ ہو گیا۔
فلسطینی ہلالِ احمر نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ انخلاء کی کارروائی کے لیے مریضوں کو پہلے ان کے ماتحت کام کرنے والے میڈیکل ری ہیبلیٹیشن ہسپتال (طبی بحالی ہسپتال) میں جمع کیا گیا، جہاں ہلالِ احمر کے عملے نے روانگی کے مقام تک مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی محفوظ اور منظم منتقلی کی نگرانی اور میدانی طریقہ کار کو سنبھالا۔
بیان کے مطابق، اس گروپ میں مجموعی طور پر 83 افراد شامل تھے، جن میں 33 مریض اور 50 تیماردار تھے، یہ اقدام ان انسانی کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد مریضوں کو غزہ کی پٹی سے باہر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
ہلالِ احمر نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ ان کا عملہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر انخلاء کے ان آپریشنز کے دوران طبی اور لاجسٹک خدمات کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ تمام مراحل کی باحفاظت اور آسان طریقے سے انجام دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی تناظر میں، عالمی ادارہ صحت کے مروجہ تخمینوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غزہ کی پٹی کے اندر بہت سے خصوصی علاج معالجے کی عدم دستیابی کے نتیجے میں اس وقت پٹی میں 18 ہزار 500 سے زائد مریضوں اور زخمیوں کو فوری طبی انخلاء کی ضرورت ہے۔
یہ آپریشنز غزہ کی پٹی میں جاری سنگین طبی بحران کے سائے میں انجام دیے جا رہے ہیں، جہاں تباہی، ایندھن کی شدید قلت اور طبی سامان کی عدم دستیابی کے باعث اکثر ہسپتال سروسز فراہم کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں، جبکہ رفح گزرگاہ اس وقت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور صرف مریضوں کے لیے جزوی و محدود طور پر کام کر رہی ہے۔
