غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب صہیونی دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں وسطی غزہ میں قابض اسرائیلی طیاروں کے حملے میں ایک دوشیزہ اور ایک شہری شہید جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض دشمن کے طیاروں نے غزہ شہر کے احمد عبدالعزیز سٹریٹ پر ایک توسان جیپ کو نشانہ بناتے ہوئے کم از کم 3 فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں طالبہ رغد عاشور جامِ شہادت نوش کر گئیں جبکہ کئی دیگر شہری زخمی ہوئے اور علاقے میں موجود متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ غاصب دشمن نے پہلے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا اور پھر جب وہاں عام شہری جمع ہوئے تو اس نے دوبارہ دو مرتبہ وحشیانہ بمباری کی، جس کے باعث مزید کئی لوگ زخمی ہوئے اور اس گنجان آباد اور حیاتیاتی علاقے میں کھڑی متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
ایک اور مقامی نامہ نگار نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی غزہ پٹی میں خان یونس شہر کے مغرب میں واقع مواصی کے علاقے پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 33 سالہ شہری میسرہ صلاح احمد نصار شہید اور ایک دوسرا شخص زخمی ہو گیا۔
علاوہ ازیں، مقامی نامہ نگار نے بتایا کہ قابض دشمن کی فوجی گاڑیوں نے غزہ پٹی کے مشرقی علاقوں پر اندھا دھند اور شدید فائرنگ کی، جس کے ساتھ ہی ان علاقوں میں کئی مقامات پر مسلسل توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔
آج صبح قابض دشمن کے ہیلی کاپٹروں نے شہر کے جنوب مشرق میں واقع زیتون محلے کے مشرقی حصوں پر شدید فائرنگ کی، جبکہ اسی وقت زیتون محلے کے مشرقی علاقے پر اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری بھی جاری رہی۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ پٹی میں مختلف علاقوں پر بمباری اور فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جس کے ساتھ ہی محاصرے کا تسلسل اور گزرگاہوں پر سخت پابندیاں برقرار ہیں جس نے انسانی صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق؛ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی اور اس وحشیانہ جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی طور پر شہداء کی تعداد بڑھ کر 73,038 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 173,357 تک جا پہنچی ہے۔
