واشنگٹن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی نائب صدر جے۔ ڈی۔ وینس نے قابض اسرائیلی حکومت کے ان ارکان پر سخت تنقید کی جنہوں نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر حملہ کیا اور زور دے کر کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی وہ واحد صدر ہیں جو “اس وقت اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں”۔
واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وینس نے کہا کہ اگر وہ قابض اسرائیل کی حکومت کے کسی رکن کی جگہ ہوتے تو “دنیا بھر میں اپنے پاس بچ جانے والے واحد مضبوط اتحادی پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرتے”۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ “گذشتہ مہینوں کے دوران جن ہتھیاروں نے ان کا تحفظ کیا، ان میں سے دو تہائی امریکہ نے بنائے اور فنڈ کیے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہاکہ “اسرائیلیوں اور سب کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ امن عمل ان کے حق میں ہو۔”
امریکی نائب صدر نے لبنان میں ٹھکانوں پر قابض اسرائیل کی بمباری پر بھی تنقید کی جو اس وقت کی جاتی ہے جب بھی کسی معاہدے پر پیش رفت ہوتی ہے۔ انہوں نے بیروت میں بڑی تعداد میں ان شہریوں کی ہلاکتوں کی طرف اشارہ کیا جن کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
وینس نے زور دیا کہ “قابض اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے، لیکن اسے امن عمل کا بھی احترام کرنا چاہیے۔”
متعدد ذرائع ابلاغ نے حال ہی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے پس منظر میں ٹرمپ اور قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان اختلافات کی خبریں دی ہیں۔
جمعرات کے روز قبل ازیں اسرائیل براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ٹرمپ کے حوالے سے نقل کیا کہ نیتن یاھو کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے ہیں، لیکن انہیں “زیادہ عقلی” ہونے کی ضرورت ہے، جبکہ انہوں نے ان سے ملاقات کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار بھی کیا۔
