Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری، ایک ہزار شہادتوں کی اطلاعات: اقوام متحدہ

نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ کی پٹی میں انسانی اور حقوق کی صورتحال کے ابتر ہونے پر شدید انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے قابض اسرائیلی افواج نے تقریباً ایک ہزار فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔

وولکر ترک نے انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو زندگی بچانے والی انسانی امداد کی فراہمی میں عائد پابندیوں کے سائے میں مسلسل سکڑتی ہوئی جگہوں میں رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کے ’خاتمے‘ یا ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کے بارے میں بعض اسرائیلی حکام کے بیانات بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر غیر قانونی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اس اعلیٰ عہدیدار نے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض افواج اور یہودی آباد کار فلسطینی بستیوں کو تباہ کرنے اور زمینوں پر قبضہ کرنے کے عمل میں تیزی لا رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں ستاون فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک ہزار تین سو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کی اکثریت یہودی آباد کاروں کے حملوں کے نتیجے میں ہوئی ہے جبکہ اسی دوران سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا اور فلسطینی زمینوں پر قبضے کے تئیس احکامات جاری کیے گئے۔

اسی تناظر میں غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے قابض فوج کی جانب سے اس معاہدے کی تین ہزار دو سو انہتر خلاف ورزیاں دستاویزی شکل میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

میڈیا آفس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں براہِ راست حملوں کی وجہ سے نو سو بیانوے فلسطینی شہید اور تین ہزار ایک سو چوالیس زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ بندی کے دوران گرفتاریوں کے پچانوے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض اسرائیل نے معاہدے میں درج انسانی شق کی پاسداری نہیں کی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قابض ریاست نے غزہ میں داخل ہونے والی ایک لاکھ سینتالیس ہزار امدادی ٹرکوں میں سے صرف باون ہزار سات سو چالیس ٹرک داخل ہونے کی اجازت دی جو کہ معاہدے پر عملدرآمد کی شرح کا چھتیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی پٹی میں انسانی بحران کے شدت اختیار کرنے اور امداد پر جاری پابندیوں اور مقامی آبادی کے لیے زندگی کے حالات کے بدترین ہونے پر عالمی اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے انتباہات کا سلسلہ جاری ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan