رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اتوار کی شام یہودی آباد کاروں نے رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبے برقا پر حملہ کیا، جس کے دوران انہوں نے قصبے کی ایک مسجد کو نذرِ آتش کرنے کےلیے اسے آگ لگا دی۔ یہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے والے حملوں میں ایک نئی اور خطرناک کشیدگی ہے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یہودی آباد کاروں نے مسجد کے داخلی راستے پر آگ لگا دی اور اس کے ساتھ ہی قریب کھڑی ایک گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا، جس کے نتیجے میں مالی نقصانات ہوئے ہیں۔
قصبہ برقا کو مسلسل یہودی آباد کاروں کی جانب سے شہریوں اور ان کی املاک پر حملوں کا سامنا ہے، جبکہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے گروپوں کی جانب سے حملوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ حملہ یہودی آباد کاروں کے تشدد میں مسلسل اضافے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جبکہ دیوار اور بستیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے کمیشن نے گذشتہ مئی کے مہینے کے دوران 1659 حملوں کے واقعات دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے ہیں، جن میں سے 551 حملے یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف کیے گئے تھے۔
