جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اتوار کی شام لبنانی سرحد کے قریب ایک بارودی ڈرون کے دھماکے کے نتیجے میں قابض اسرائیل کا ایک فوجی زخمی ہو گیا۔ اس واقعے نے قابض اسرائیل کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر حزب اللہ کے ڈرون طیاروں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
عبرانی پلیٹ فارم حدشوت بزمان نے اطلاع دی ہے کہ لبنانی سرحد کے قریب مرغلیوت کے علاقے میں ایک سکیورٹی واقعہ پیش آیا جسے انہوں نے انتہائی غیر معمولی قرار دیا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں قابض اسرائیل کی فوج کا ایک اہلکار زخمی ہوا جسے طبی امداد کے لیے حیفہ شہر کے رمبام ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ حزب اللہ کی ڈرون صلاحیتوں میں پیشرفت پر قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں سامنے آیا ہے کیونکہ گذشتہ کچھ عرصے سے حزب اللہ نے اپنے جارحانہ اور جاسوسی مشنز میں ان کا استعمال نمایاں حد تک بڑھا دیا ہے۔
قابض اسرائیل کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندازوں کے مطابق حزب اللہ ڈرون چلانے کے ذرائع کو مسلسل جدید بنا رہی ہے اور میدان جنگ میں حاصل ہونے والے اپنے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ان کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان ڈرونز میں کیمرے اور تھرمل مانیٹرنگ سسٹمز کا استعمال بھی شامل ہے جو رات کے وقت بھی جاسوسی اور حملوں کو ممکن بناتے ہیں۔
اس سے قبل قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ حزب اللہ کی جانب سے داغے جانے والے بارودی ڈرونز کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہے اور انہوں نے اسے شمالی محاذ پر قابض اسرائیل کو درپیش سکیورٹی کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔
