غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی افواج نے مسلسل 245 ویں دن جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور وحشیانہ بمباری، بلااشتعال فائرنگ اور رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی سفاکانہ کارروائیوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جبکہ قابض دشمن کے جابرانہ محاصرے اور ظالمانہ پابندیوں کے نتیجے میں انسانی صورتحال مسلسل ابتر ہو رہی ہے جس کے باعث ایک اور فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گیا اور کئی زخمی ہو گئے۔
طبی ذرائع نے افسوس ناک اعلان کیا ہے کہ وسطی غزہ کی پٹی میں واقع نصیرات کیمپ کے شمال میں مصری کیمپ کے بالکل سامنے ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنا کر صبح کے وقت کیے گئے قابض اسرائیل کے حملے میں شہری سامی ابو دلال شہید ہو گئے اور ایک دوسرا فلسطینی شدید زخمی ہو گیا۔
شمالی غزہ کی پٹی کے شہر بیت لاہیا کے علاقے السلاطین میں قابض اسرائیل کے ایک خطرناک مسیرہ ڈرون کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک فلسطینی خاتون شدید زخمی ہو گئیں جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے الشفاء ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں ایک مقامی نامہ نگار نے بتایا کہ آج صبح غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع حی الزیتون میں کشکو اسٹریٹ کے آس پاس قابض اسرائیل کے ایک کواڈ کاپٹر مسیرہ ڈرون کے اچانک دھماکے کے نتیجے میں دو معصوم شہری شدید زخمی ہو گئے۔
ایک مقامی ذریعے نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ قابض دشمن کے توپ خانے نے آج صبح خان یونس کے مشرقی محلوں پر شدید گولہ باری کی، جبکہ شہر کے اسی مشرقی حصے میں فجر کے وقت سے ہی قابض دشمن کی فوجی گاڑیوں کی جانب سے کی جانے والی بھاری فائرنگ کا سلسلہ بار بار دہرایا جا رہا ہے۔
اسی طرح قابض دشمن کے سنگدل توپ خانے نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں اور شمالی غزہ کی پٹی میں واقع جبالیہ کیمپ پر بھی وحشیانہ گولہ باری کی، جس کے ساتھ ساتھ وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
اس ہولناک صورتحال کے دوران قابض اسرائیل کے جنگی ہیلی کاپٹروں نے بھی پٹی کے وسطی حصے کے مشرقی علاقوں پر زمین لرزا دینے والی شدید فائرنگ کی۔
قابض اسرائیل کی ظالم افواج پناہ گزینوں اور بے گھر مظلوموں کے ٹھکانوں پر مسلسل فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے ذریعے غزہ کی پٹی میں طے شدہ جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہیں، جس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن یعنی پیلی لائن کے اندر رہائشی عمارتوں کو بارود سے اڑانے اور مکمل تباہ کرنے کی کارروائیوں کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے اور سامان، امداد کی ترسیل اور مریضوں کے سفر کی نقل و حرکت پر مجرمانہ پابندیاں بدستور برقرار رکھی گئی ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دس اکتوبر گذشتہ سے جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک غاصب دشمن کے ہاتھوں شہید ہونے والے معصوموں کی تعداد بڑھ کر 982 ہو گئی ہے، جبکہ 3111 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ملبے تلے دب جانے والے مزید 783 شہدا کے اجسادِ خاکی کو نکالنے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
جبکہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری فلسطینیوں کی اس باقاعدہ نسل کشی اور سفاکانہ جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک شہدا کی مجموعی تعداد ریکارڈ 72,992 ہو چکی ہے اور 173,219 معصوم افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں، جو اس مظلوم پٹی پر قابض دشمن کی جاری مستقل سفاکیت اور خونخوار جارحیت کی مہیب انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
