غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک نئی علمی و تحقیقی دستاویزی رپورٹ میں سخت الفاظ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری نقد رقم کی قلت کا شدید بحران اپنے جوہر میں ایک ایسا سنگین اور جابرانہ ماحول پیدا کر رہا ہے جو فلسطینی مالیاتی ڈھانچے اور اس کی ادارہ جاتی وحدت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس مطالعے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ “مقامی ڈیجیٹل کرنسی” کو اپنانے سے متعلق پیش کی جانے والی تجاویز گہرے سیاسی اور اسٹریٹجک ابعاد کی حامل ہیں، جو مالیاتی نظام کو اس انداز میں دوبارہ تشکیل دینے کا سبب بن سکتی ہیں جس سے مغربی کنارے سے اقتصادی علیحدگی کے مظاہر مزید گہرے ہو جائیں گے اور فلسطینی مالیاتی نظام کے باہمی استحکام و یکجہتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اس علمی مطالعے میں سفارش کی گئی ہے کہ فلسطینی مانیٹری اتھارٹی کو ہی مالیاتی پالیسی کے واحد اور خصوصی مرجع کے طور پر برقرار رکھا جائے اور فلسطینی اتھارٹی کے سرکاری بینکنگ نظام کے ذریعے نقد رقم کی فراہمی کے ذرائع کو دوبارہ فعال کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ قومی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو ترقی دی جائے اور غیر رسمی مارکیٹ پر نگرانی کو مزید سخت کیا جائے۔
یہ اہم نتائج اور خلاصے مرکز الزیتونہ برائے مطالعہ و مشاورت کی جانب سے جاری کردہ ایک علمی دستاویز میں سامنے آئے ہیں جس کا عنوان ہے “غزہ کی پٹی میں نقد رقم کا بحران اور ڈیجیٹل کرنسی کی طرف منتقلی کے خطرات: فلسطینی مالیاتی نظام پر مالیاتی علیحدگی کے اثرات”۔ اس دستاویزی رپورٹ کو فلسطینی اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر رائد محمد حلس نے تیار کیا ہے، جنہوں نے فلسفہ معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ خود غزہ کی پٹی میں مقیم ہیں۔
یہ علمی دستاویز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی کے تمام اضلاع اس وقت نقد رقم کی شدید اور تاریخ کی بے مثال ترین قلت کے بحران سے دوچار ہیں، جس کی بنیادی وجہ قابض اسرائیل کی وحشیانہ جنگ کے نتیجے میں بینکنگ کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور نقد رقم کی منتقلی کے تمام ذرائع کا معطل ہونا ہے۔ یہ بحران پوری جنگ کے دوران پٹی میں نقد رقم لانے پر عائد سخت ترین مالیاتی محاصرے اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی قابض دشمن کی جانب سے جاری مسلسل پابندیوں کا ہولناک نتیجہ ہے۔
اس شدید بحران نے گہرے ساختی بگاڑ کو جنم دیا ہے، جس کے مظاہر غیر رسمی معیشت کے پھیلاؤ، نقد رقم نکلوانے کے کمیشن میں ریکارڈ حد تک ہوشربا اضافے اور اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ افزائی اور سرکاری دائرہ کار سے باہر نقد رقم کو چھپا کر رکھنے کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔
اس گھمبیر بحران کے سائے میں، ایسے بین الاقوامی مطالبات اور تجاویز سامنے آئی ہیں جن میں اس بحران کے تکنیکی حل کے طور پر ایک “مقامی ڈیجیٹل کرنسی” کو اپنانے کی وکالت کی گئی ہے۔ تاہم، یہ علمی مطالعہ ان تجاویز کے خلاف سخت وارننگ دیتا ہے کیونکہ ان میں انتہائی بھیانک اسٹریٹجک خطرات پوشیدہ ہیں، جن میں سب سے نمایاں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان مالیاتی علیحدگی کو مستقل شکل دینا اور سلطہ النقد الفلسطینیہ کے نگران کردار کو کمزور کرنا ہے، جو بالآخر پورے قومی مالیاتی نظام کی وحدت کو خطرے میں ڈال دے گا۔
یہ علمی مطالعہ اس ڈیجیٹل منتقلی سے وابستہ تکنیکی اور خود مختاری کے چیلنجوں کا بھی احاطہ کرتا ہے، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب غاصب صیہونی دشمن کی سفاکیت کے باعث توانائی اور مواصلات کے شعبوں کا بنیادی ڈھانچہ انتہائی کمزور ہو چکا ہے اور ان ڈیجیٹل سسٹمز کو بیرونی نگرانی اور کنٹرول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے شدید خطرات موجود ہیں۔
اس مطالعے کا بنیادی مقصد غزہ کی پٹی میں نقد رقم کے سنگین بحران کا ایک گہرا اور تفصیلی تجویز کا اقتصادی، ادارہ جاتی اور سیاسی ابعاد کے ذریعے جائزہ لینا ہے اور فلسطینی مالیاتی نظام کی یکجہتی پر مرتب ہونے والے اس کے ممکنہ منفی اثرات کا احاطہ کرنا ہے۔
یہ بیداری انگیز مطالعہ ممکنہ متبادل پالیسیوں کی روشنی میں اس تجارتی و تکنیکی تجویز پر بحث کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے، تاکہ ایسے عملی ملاحضات اور سفارشات پیش کی جا سکیں جن کا مقصد فیصلہ سازوں اور متعلقہ اداروں کی معاونت کرنا ہو، تاکہ مالیاتی نظام کے استحکام کو فروغ دیا جا سکے اور ایک متحد قومی فریم ورک کے تحت اس کی ہم آہنگی و سالمیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
