Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، خطے میں تناؤ بڑھ گیا

تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کے روز علی الصباح سفاکانہ اعلان کیا ہے کہ اس کی غاصب افواج نے ایرانی سرزمین کے اندر فوجی کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ مکمل کر لیا ہے جبکہ دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کے 18 ایسے اہداف کو تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے جنہیں انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے خطے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی اور جنگی تصادم کو محاذ پر لا کھڑا کیا ہے۔

امریکی کمانڈ نے تضحیک آمیز وضاحت پیش کی ہے کہ اس نے انتہائی گائیڈڈ ہتھیاروں کا استعمال کیا جنہوں نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جن کے بارے میں اس کا من گھڑت دعویٰ تھا کہ وہ امریکی افواج اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں ، ان اہداف میں ایران کے مختلف علاقوں میں واقع فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی ڈھانچے اور فضائی دفاعی نظام شامل تھے۔

اس کے ساتھ ہی امریکی کمانڈ نے ایرانی حدود کی گہرائی میں واقع مزید ٹھکانوں پر بھی تباہ کن حملے کرنے کی توثیق کی ہے جو کہ ان فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی واضح علامت ہے۔

سیاسی کشیدگی اور مذاکراتی دباؤ

میدانی سطح پر برپا اس مہم جوئی کے متوازی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ براہ راست رابطے قائم کیے ہیں اور انہوں نے ایرانی فضائی حدود میں امریکی لڑاکا طیاروں کی پروازوں اور ایران کے اندرونی ٹھکانوں پر 49 ٹوما ہاک میزائل داغنے کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے بمباری روکنے کی التجا کی ہے اور انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ فوجی کارروائیاں جلد ہی رک جائیں گی۔

اس کے برعکس تہران نے ان امریکی بیانات کو یکسر اور قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جہاں ایرانی ٹیلی ویژن نے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان من گھڑت دعووں کا مقصد اس سنگین جارحیت پر پردہ ڈالنا ہے جبکہ تسنیم نیوز ایجنسی نے کسی بھی قسم کے رابطے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ان حملوں کا بھرپور فوجی جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے پیش کردہ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تو بمباری کا یہ سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا جبکہ دوسری طرف امریکہ کے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن وائٹ ہاؤس اور مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت اپنی جابرانہ شرائط کے مطابق ان شدید حملوں کو جاری رکھے گا۔

پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا کہ ان حملوں کا مقصد اپنے فوجی اور سفارتی موقف کو مضبوط کرنا اور تہران کو معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے اور انہوں نے اشارہ کیا کہ اگر ایران کی طرف سے یہ ٹال مٹول جاری رہی تو امریکہ ان کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور وہ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر اپنے اہداف کی فہرست کو مسلسل تبدیل اور تیار کر رہا ہے۔

زمینی صورتحال اور فضائی دفاعی نظام

زمینی سطح پر ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جزیرہ کیش کے گرد و نواح اور صوبہ فارس اور صوبہ ہرمزگان سمیت کئی علاقوں میں شدید دھماکوں کی ہولناک آوازیں سنی گئی ہیں اور مختلف مقامات پر فضائی دفاعی نظام کو متحرک کر دیا گیا ہے تاہم نشانہ بننے والے اہداف کی اصل نوعیت کی تائید نہیں ہو سکی۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی ذرائع نے خلیجی پانیوں اور بحیرہ عمان میں جھڑپیں جاری رہنے کی بات کی ہے جس کے متبادل کے طور پر امریکہ نے کسی بھی براہ راست بحری تصادم کے وقوع پذیر ہونے کی تردید کی ہے۔

ایرانی افواج نے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی مدد سے امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے جن میں رڈار سسٹمز اور فضائی دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ خلیج میں واقع فوجی اڈے شامل ہیں۔ پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک امریکی لڑاکا طیارے کو نشانہ بنا کر اسے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

ایرانی فوجی حکام نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور وہاں سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی سخت ترین دھمکی دی ہے اور انہوں نے دو بحری جہازوں پر حملے کرنے کی توثیق کی ہے جبکہ اس کے برعکس امریکی کمانڈ نے اس بیانیے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز رانی کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan