کینبرا (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) آسٹریلو ی حکومت نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر3 اسرائیلی شہریوں اور4 اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ شنہوا کے مطابق آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بیان میں کہا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد اسرائیل کی سلامتی اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کا سامنا کرنے والے افراد اور اداروں پر مالیاتی پابندیاں نافذ ہوں گی جس کے تحت آسٹریلوی شہریوں کے لیے انہیں رقم یا اثاثے فراہم کرنا غیر قانونی ہوگا۔ اس کے علاوہ، ان افراد کے آسٹریلیا میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار پابندیوں کی فہرست میں ایسی چوکیاں بھی شامل کی گئی ہیں جہاں پر یہودی آبادکار فلسطینیوں پر تشدد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہودی آبادکاروں کا تشدد فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے اور آبادکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تشدد میں املاک کی تباہی، خاندانوں کی بے دخلی، تشدد ، جنسی تشدد اور تشدد آمیز سلوک شامل ہیں جس کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے اور اموات کے واقعات پیش آئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ آسٹریلیا نے یہ پابندیاں اپنے شراکت دار ممالک، بشمول نیوزی لینڈ کے ساتھ مل کر عائد کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اسرائیل اور فلسطین دونوں کے امن، سلامتی اور مستقبل کے لیے آسٹریلیا کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ مئی میں آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے برطانیہ،اٹلی، فرانس، جرمنی،کینیڈا ،ناروے ، نیدرلینڈز اور نیوزی لینڈ کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ ■