غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے پیس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولے ملادی نوف پر غزہ کی پٹی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پٹی اور تحریک کے خلاف اشتعال انگیزی بند کریں اور نئی پیچیدگیاں پیدا کیے بغیر سیز فائر کے منصوبے کی پابندی کریں۔
جماعت کے ترجمان حازم قاسم نے ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ حماس تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے اور اس پٹی کے باسیوں پر ہونے والی سنگین جارحیت کو بند کرنے کی کوشش میں مختلف متعلقہ فریقوں کے ساتھ گہرے روابط اور تفصیلی ملاقاتیں کر رہی ہے۔
حازم قاسم نے وضاحت کی کہ تحریک جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام سمتوں میں متحرک ہے، خاص طور پر قابض اسرائیل کو معاہدے کے پہلے مرحلے کے تقاضوں کا پابند کرنے کے حوالے سے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان التزامات کی کوئی بھی خلاف ورزی غزہ میں تناؤ کی شدت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
اسی تناظر میں حازم قاسم نے نکولے ملادی نوف کو کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاسوں کے دوران حقیقت کے منافی بریفنگز دیں اور اپنی مختلف ملاقاتوں میں غزہ کی پٹی اور حماس تحریک کے خلاف اشتعال انگیزی کی، جیسا کہ انہوں نے تعبیر کیا۔
حماس کے ترجمان نے عالمی عہدیدار پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی پر سیز فائر کے منصوبے پر کاربند رہیں اور خبردار کیا کہ کوئی بھی اضافی پیچیدگی قابض اسرائیل کو پٹی میں فوجی کشیدگی جاری رکھنے کا جواز فراہم کرے گی۔
اس سے قبل مصر نے خلیل الحیہ کی سربراہی میں حماس کے مذاکراتی وفد کو قاہرہ آنے کی دعوت دی تھی تاکہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی سے متعلق مذاکرات کو مکمل کیا جا سکے۔
قاہرہ کی جانب سے حماس اور پیس کونسل کے نمائندوں کے درمیان کی جانے والی ثالثی سے واقف ایک مصری ذریعے نے الجزیرہ نیٹ کو بتایا کہ متعلقہ فریقوں کے درمیان ہفتے کے آخر سے پہلے مذاکرات کو ترتیب دینے کے لیے گہرے روابط اور کوششیں جاری ہیں تاکہ غزہ کی پٹی پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد معاہدے کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکے۔
چند روز قبل قابض حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے بیان دیا تھا کہ انہوں نے فوج کو غزہ کے 70 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ امن منصوبے کی خلاف ورزی ہے۔
قابض فوج دس اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 930 فلسطینیوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور 2819 دیگر زخمی ہوئے، جس سے اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری نسل کشی کے متاثرین کی کل تعداد 72 ہزار 939 شہداء اور 1 لاکھ 72 ہزار 927 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے، جیسا کہ غزہ میں وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں۔
