غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی مزاحمتی دھڑوں نے کہا ہے کہ صیہونی دشمن کی طرف سے مسلسل جاری فاشزم، مجرمانہ اقدامات اور خونی سفاکیت بین الاقوامی مفاہمتوں اور معاہدے کی شقوں سے کھلم کھلا انحراف ہے۔
مزاحمتی دھڑوں نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سنگین صورت حال سیز فائر (یا جنگ بندی) معاہدے کے تمام ثالثوں اور ضامنوں پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ قابض دشمن کو اس کے تمام مطلوبہ واجبات اور وعدوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے مجبور کریں اور اس کے بعد ہی معاہدے کے اگلے مرحلے پر بحث کی طرف بڑھا جائے۔
بیان میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا کہ صیہونی دشمن نے غزہ کی پٹی پر اپنی جنونی جنگ کو قتل و غارت گری ٹارگٹ کلنگ، ہولناک قتل عام اور فلسطینی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر بدستور جاری رکھا ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ظالمانہ محاصرے، بھوکا مارنے کی بڑھتی ہوئی پالیسی اور مستقل عسکری دباؤ کے ذریعے غزہ کی پٹی کو مستقل تھکن اور تباہی کی حالت میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دھڑوں نے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ یہ اقدامات اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ ہم ایک منظم صیہونی منصوبے اور سازش کے سامنے ہیں جس کا مقصد غزہ میں ہماری غیور عوام کو جھکنے پر مجبور کرنا، انہیں ہجرت کی طرف دھکیلنا اور سیز فائر (یا جنگ بندی) معاہدے کے پہلے مرحلے کو طول دینا ہے تاکہ صیہونی ریاست اپنے سیاسی و عسکری وعدوں اور واجب الادا ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے فرار اختیار کر سکے۔
بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ غزہ کے امور چلانے کے لیے نکولے ملادی نوف کا تیار کردہ نقشہ سراسر ایک سیاسی اور انسانی بلیک میلنگ ہے کیونکہ یہ منصوبہ امدادی سامان، ایندھن اور تعمیرِ نو کو مزاحمت کے ہتھیار غیر مسلح کرنے سے جوڑتا ہے اور ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو ہماری فلسطینی عوام کے مدمقابل لا کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اندرونی تقسیم کو مزید گہرا کیا جائے اور ایک ایسی داخلی جنگ کو ہوا دی جائے جو صیہونی دشمن کے مفاد میں ہو اور اس کے بھیانک جرائم کو قانونی جواز فراہم کر سکے۔
مزاحمتی دھڑوں نے ٹیکنوکریٹ کمیٹی سے پرزور اپیل کی کہ وہ ہمیشہ ہماری مظلوم عوام کے مفادات کے ساتھ کھڑی ہو اور صیہونی دشمن کی تمام تر سازشوں کو یکسر مسترد کر دے۔ کمیٹی کو چاہیے کہ وہ نکولے ملادی نوف کے ان منصوبوں کے سامنے جھکنے اور ان کا یرغمال بننے سے صاف انکار کر دے جنہیں وہ نام نہاد “مجلسِ امن” کے اندر نافذ اور راسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں ہماری قوم کے ساتھ محض ایک انتظامی فائل کے طور پر برتاؤ کیا جا رہا ہے نہ کہ ایک ایسی قوم کے طور پر جو حقِ خودارادیت رکھتی ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ “مجلسِ امن” کو غزہ کی پٹی کے حقائق کی ازسرِ نو انجینئرنگ کرنے کے لیے ایک سیاسی اور قانونی کور کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور غزہ کے انتظام و انصرام اور تعمیرِ نو کے نام پر صیہونی دشمن کے مفادات کو تحفظ دینے والے انتظامی و سکیورٹی فارمولوں کو یکسر مسترد کر دیا جائے۔
