Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

غزہ: اسرائیلی بمباری میں شہید حماس قائد سپرد خاک

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں جمعرات کے روز عوام کے ایک بہت بڑے ہجوم نے القسام بریگیڈز کے مقتدر قائد عماد اسلیم کے جسد خاکی کو سپرد خاک کر دیا جنہیں گذشتہ روز شام کے وقت غاصب اسرائیلی افواج نے سفاکانہ بمباری کے ذریعے ایک گھناؤنے جرم کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا تھا اور اس حملے کے نتیجے میں 10 افراد شہید ہوئے تھے۔

شہید کی تدفین کا یہ جلوس شدید غم و غصے کی فضا میں روانہ ہوا جس میں شہید کے رشتہ داروں اور قومی شخصیات سمیت عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس دوران غاصب دشمن کے جرائم کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی جبکہ غزہ کی پٹی پر جاری وحشیانہ جارحیت کے خلاف مزاحمت کے راستے پر کاربند رہنے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق قائد عماد اسلیم اپنے اہل خانہ کے کئی افراد کے ہمراہ اس وقت جام شہادت نوش کر گئے جب ان کے رہائشی فلیٹ کو نشانہ بنایا گیا جو کہ گنجان آباد رہائشی علاقوں کے اندر عام شہریوں اور فلسطینی خاندانوں کے خلاف قابض دشمن کی طرف سے کی جانے والی نسل کشی کا ایک نیا خونریز مروجہ طریقہ کار ہے۔

ذرائع نے واضح کیا کہ شہید عماد اسلیم گذشتہ برسوں کے دوران قابض اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی قاتلانہ حملوں کی پانچ کوششوں سے بال بال بچے تھے تاہم اس آخری فضائی حملے میں دشمن انہیں نشانہ بنانے میں کامیاب رہا جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید و زخمی ہوئے اور مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا.

شہید عماد اسلیم کا شمار نمایاں ترین میدانی قائدین میں ہوتا تھا کیونکہ وہ “زیتون بریگیڈ” کے کمانڈر کے عہدے پر فائز رہے اور قابض دشمن کے خلاف مواصلت اور کارروائیوں کے طویل برسوں کے دوران اپنے جرات مندانہ میدانی کردار کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔

جنازے اور تدفین کی اس تقریب کے دوران شرکاء نے فلسطینی پرچم لہرا رکھے تھے اور وہ مزاحمت کو جاری رکھنے کے حق میں فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے جبکہ سوگواران نے رہائشی مکانات کے اندر فلسطینی قائدین اور خاندانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی اسرائیلی سفاکیت پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

قائد عماد اسلیم کی یہ شہادت شہرِ غزہ اور اس پٹی کے مختلف علاقوں پر قابض اسرائیل کی طرف سے فضائی حملوں میں آنے والی شدید تیزی کے دوران ہوئی ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں معصوم لوگ شہید اور زخمی ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر تباہ کیا جا رہا ہے۔

غزہ میں وزارت صحت نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 16 فلسطینی شہداء کی لاشوں کو غزہ کی پٹی کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ 39 زخمی بھی ہسپتال لائے گئے ہیں۔

وزارت صحت نے مزید وضاحت کی کہ گذشتہ دس اکتوبر کو جنگ بندی کے فیصلے پر عمل درآمد کے آغاز سے لے کر اب تک غاصب اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے کل افراد کی تعداد 922 ہو چکی ہے جبکہ 2,786 افراد زخمی ہوئے اور ملبے تلے لاپتہ ہونے والے افراد میں سے 781 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

قابض اسرائیل نے امریکہ اور یورپی سرپرستی میں سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی میں باقاعدہ طور پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا بازار گرم کر رکھا ہے جس میں قتل عام، بھوک پیاس سے مارنا، بڑے پیمانے پر تباہی مچانا، جبری ہجرت پر مجبور کرنا اور قید و بند کی صعوبتیں دینا شامل ہیں اور اس بھیانک جرم کے دوران غاصب ریاست نے تمام بین الاقوامی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے جنگ بندی کے احکامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

فلسطینیوں کی اس نسل کشی نے اب تک 2 لاکھ 45 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کر دیا ہے جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے جبکہ 11 ہزار سے زائد لوگ لاپتہ ہیں، اس کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین اور شدید ترین قحط کی وجہ سے بہت سے لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے، مزید یہ کہ اس مکمل تباہی نے غزہ کی پٹی کے بیشتر شہروں اور علاقوں کو دنیا کے نقشے سے ہی مٹا دیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan